آزاد جموں و کشمیر میں حکومت کی تبدیلی کے حوالے سے زیرِ گردش خبروں کو سیاسی حلقوں نے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حکومت کو کوئی خطرہ درپیش نہیں ہے۔ سیاسی مبصرین اور حکومتی ذرائع کے مطابق معمولی مسائل اور مخصوص ایجنڈے پر مبنی میڈیا کوریج زمینی حقائق کو تبدیل نہیں کر سکتی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ میڈیا کے ڈراموں یا مخصوص بیانیوں سے نہیں بلکہ ایوان کے اندر موجود اکائیوں اور جمہوری عمل سے ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ ایک خالصتاً پارلیمانی عمل ہے جسے محض پروپیگنڈے کے ذریعے متاثر نہیں کیا جا سکتا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ وفاق میں برسرِاقتدار جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مقامی رہنماؤں نے بھی آزاد کشمیر میں کسی بڑی سیاسی تبدیلی یا عدم اعتماد کی تحریک کی خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق میڈیا میں دکھائی جانے والی بے یقینی کی صورتحال حقیقت کے برعکس ہے اور آزاد کشمیر کی موجودہ پارلیمانی سیٹ اپ کو فی الحال کسی چیلنج کا سامنا نہیں ہے۔
دیکھیے: عمران خان کی صحت، قانونی حقوق اور احتجاجی سیاست پر سیاسی محاذ آرائی تیز