برطانیہ میں شاہی خاندان سے متعلق ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں سابق شہزادہ انڈریو، جو اب سرکاری طور پر اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کہلاتے ہیں، کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ برطانوی خبر رساں اداروں کے مطابق تھامس ویلی پولیس نے 19 فروری کو جاری بیان میں تصدیق کی کہ ساٹھ برس سے زائد عمر کے ایک شخص کو عوامی عہدے میں مبینہ بدانتظامی کے شبہے میں گرفتار کیا گیا ہے اور نورفک و برکشائر میں مختلف مقامات پر تلاشی لی گئی ہے۔
یہ گرفتاری اُن حالیہ دستاویزات کے تناظر میں سامنے آئی ہے جو امریکا میں مرحوم مالیاتی شخصیت اور سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹن سے متعلق تحقیقات کے سلسلے میں جاری کی گئیں۔ پولیس اس امر کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا سابق شہزادے نے کسی مرحلے پر خفیہ سرکاری معلومات ایپسٹین کے ساتھ شیئر کیں یا نہیں۔ اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر نے ماضی میں کسی بھی غلط کام کی تردید کی ہے اور ایپسٹین سے دوستی پر افسوس کا اظہار کیا تھا، تاہم حالیہ پیش رفت پر ان کی جانب سے فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
گزشتہ برس بکمنگھم پیلس نے اعلان کیا تھا کہ انہیں شاہی خطابات، اعزازات اور سرکاری حیثیت سے محروم کیا جا رہا ہے۔ وہ اب “پرنس” نہیں کہلائیں گے اور شاہی رہائش گاہ رائل لاج چھوڑ کر سینڈرنگھم اسٹیٹ کی ایک نجی رہائش گاہ منتقل ہو چکے ہیں۔ اس سے قبل وہ شاہی ذمہ داریوں سے بھی علیحدہ کیے جا چکے تھے۔
امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی حالیہ فائلوں میں بعض تصاویر اور دعوے بھی شامل ہیں جن میں سابق شہزادے کا نام آیا۔ ماضی میں ایپسٹین کی مدعیہ ورجینا نے الزام عائد کیا تھا کہ کم عمری میں انہیں ایپسٹین کے ذریعے اینڈریو کے پاس بھیجا گیا۔ یہ معاملہ 2022 میں عدالت سے باہر تصفیے پر ختم ہوا تھا، جس میں اینڈریو نے کسی بھی قانونی ذمہ داری کا اعتراف نہیں کیا۔
سیاسی و قانونی ماہرین کے مطابق جدید برطانوی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی سینئر شاہی شخصیت کو اس نوعیت کے شبہے میں باقاعدہ گرفتار کیا گیا ہو۔ بادشاہ کنگ چارلس تھری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ اس خبر پر گہری تشویش رکھتے ہیں اور معاملہ اب مکمل، منصفانہ اور قانونی طریقہ کار کے تحت آگے بڑھے گا۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر مختلف بین الاقوامی شخصیات کے حوالے سے گردش کرنے والے دعوؤں کے بارے میں تاحال کسی مستند سرکاری ذریعے سے تصدیق سامنے نہیں آئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور حتمی نتائج عدالتی و تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔