"> غزہ استحکام فورس: پاکستان فوجی دستے بھیجنے والے ممالک میں شامل نہیں - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

غزہ استحکام فورس: پاکستان فوجی دستے بھیجنے والے ممالک میں شامل نہیں

پاکستان بورڈ آف پیس کے ان پانچ ممالک میں شامل نہیں ہے جنہوں نے غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس کے لیے اپنی افواج بھیجنے کا اعلان کیا ہے
پاکستان بورڈ آف پیس کے ان پانچ ممالک میں شامل نہیں ہے جنہوں نے غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس کے لیے اپنی افواج بھیجنے کا اعلان کیا ہے

غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی کا معاملہ؛ پاکستان ان پانچ ممالک کی فہرست میں شامل نہیں جس نے فوجی دستے بھیجنے کا عزم ظاہر کیا ہے

February 21, 2026

بین الاقوامی سطح پر غزہ میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے تشکیل دی جانے والی “بین الاقوامی استحکام فورس” کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان ان پانچ ممالک کی فہرست میں شامل نہیں ہے جنہوں نے غزہ میں امن و امان کی بحالی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بین الاقوامی فورس کے لیے اپنے فوجی دستے بھیجنے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے۔

بورڈ آف پیس اور پاکستان کا کردار
بورڈ آف پیس کے پلیٹ فارم پر ہونے والی حالیہ پیش رفت کے مطابق غزہ میں بین الاقوامی نگرانی کے تحت استحکام فورس کی تعیناتی پر غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم اس حساس مشن کے لیے جن ممالک نے اپنی عسکری خدمات پیش کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، ان میں پاکستان کا نام شامل نہیں ہے۔ سفارتی مبصرین اس فیصلے کو پاکستان کی خارجہ پالیسی اور خطے کی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں۔

ردعمل
اس خبر کے سامنے آتے ہی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ایک نئی مہم کا آغاز ہو گیا ہے، جہاں شہری اور تجزیہ نگار کے ہیش ٹیگ کے ساتھ اپنی آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس مہم کے ذریعے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ عالمی امن کے لیے سرگرم بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کے باوجود، غزہ جیسے اہم مشن کے لیے فوجی دستوں کے اعلان سے دوری کی وجوہات کیا ہو سکتی ہیں۔

مستقبل کے امکانات
واضح رہے کہ پاکستان نے ہمیشہ عالمی فورمز پر فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت اور غزہ میں فوری جنگ بندی کی حمایت کی ہے، تاہم بین الاقوامی استحکام فورس میں عملی شمولیت کے حوالے سے پاکستان کا حالیہ مؤقف بین الاقوامی سیاست میں نئے سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے دور رس اثرات پاکستان کے عالمی امن مشنز میں کردار پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

دیکھیے: پاک روس سفارتی ملاقات: افغانستان اور علاقائی سلامتی پر اہم مشاورت

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *