بین الاقوامی سطح پر غزہ میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے تشکیل دی جانے والی “بین الاقوامی استحکام فورس” کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان ان پانچ ممالک کی فہرست میں شامل نہیں ہے جنہوں نے غزہ میں امن و امان کی بحالی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بین الاقوامی فورس کے لیے اپنے فوجی دستے بھیجنے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے۔
بورڈ آف پیس اور پاکستان کا کردار
بورڈ آف پیس کے پلیٹ فارم پر ہونے والی حالیہ پیش رفت کے مطابق غزہ میں بین الاقوامی نگرانی کے تحت استحکام فورس کی تعیناتی پر غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم اس حساس مشن کے لیے جن ممالک نے اپنی عسکری خدمات پیش کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، ان میں پاکستان کا نام شامل نہیں ہے۔ سفارتی مبصرین اس فیصلے کو پاکستان کی خارجہ پالیسی اور خطے کی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں۔
ردعمل
اس خبر کے سامنے آتے ہی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ایک نئی مہم کا آغاز ہو گیا ہے، جہاں شہری اور تجزیہ نگار کے ہیش ٹیگ کے ساتھ اپنی آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس مہم کے ذریعے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ عالمی امن کے لیے سرگرم بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کے باوجود، غزہ جیسے اہم مشن کے لیے فوجی دستوں کے اعلان سے دوری کی وجوہات کیا ہو سکتی ہیں۔
مستقبل کے امکانات
واضح رہے کہ پاکستان نے ہمیشہ عالمی فورمز پر فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت اور غزہ میں فوری جنگ بندی کی حمایت کی ہے، تاہم بین الاقوامی استحکام فورس میں عملی شمولیت کے حوالے سے پاکستان کا حالیہ مؤقف بین الاقوامی سیاست میں نئے سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے دور رس اثرات پاکستان کے عالمی امن مشنز میں کردار پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔