شمالی وزیرستان کے علاقے شیواہ میں ”فتنہ الخوارج’ کے مسلح عناصر کی جانب سے انسانی حقوق اور آزادیِ اظہارِ رائے پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ ترین واقعے میں انتہاء پسندوں نے مقامی صحافی زعفران وزیر کو صرف اس جرم میں اغواء کر لیا ہے کہ انہوں نے حال ہی میں وائرل ہونے والی کمسن کرکٹر آئینہ وزیر کی ویڈیو بنائی تھی۔
الزامات اور انتہا پسندی
ذرائع کے مطابق،’فتنہ الخوارج’ سے وابستہ عناصر نے زعفران وزیر پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے ایک چھوٹی بچی کو کرکٹ کھیلتے ہوئے دکھا کر معاشرے میں “فحاشی” اور “بے حیائی” کو فروغ دیا ہے۔ واضح رہے کہ چند روز قبل منظرِ عام پر آنے والی اس ویڈیو میں معصوم آئینہ وزیر کو روایتی لباس میں کرکٹ کھیلتے دکھایا گیا تھا، جسے عوامی سطح پر بھرپور پذیرائی ملی تھی اور پشاور زلمی نے بھی بچی کی سرپرستی کا اعلان کیا تھا۔
خواتین دشمنی
سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ان عناصر کے اصل چہرے کو بے نقاب کرتا ہے جو اسلام کی من پسند اور خود ساختہ تشریح کے ذریعے اپنی مرضی کا جابرانہ نظام نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ یہ عناصر نہ صرف خواتین کی تعلیم اور کھیل کے مخالف ہیں بلکہ معصوم بچوں کی صحت مند سرگرمیوں کو بھی اپنے تنگ نظر نظریات کی بھینٹ چڑھانے سے گریز نہیں کرتے۔
عوامی ردعمل اور مطالبات
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جو لوگ ان انتہا پسندوں کے ہمدرد ہی، وہ اس واقعے سے سبق حاصل کریں کہ یہ گروہ خواتین اور بچوں کے بارے میں کس قدر زہریلے خیالات رکھتا ہے۔ مقامی عمائدین نے حکومت اور سکیورٹی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ صحافی زعفران وزیر کی باحفاظت واپسی کو یقینی بنایا جائے اور علاقے کو ان خوارجی عناصر کے ناپاک وجود سے پاک کرنے کے لیے فیصلہ کن کارروائی کی جائے۔