سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں میں ریاست اور قومی اداروں کے خلاف ایک مربوط مہم کے تحت حقائق کو مضحکہ خیز حد تک توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں ایک وائرل ہونے والی پوسٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ شمالی وزیرستان میں تانبے کے ذخائر کی مقدار 36,000 ملین ٹن ہے، تاہم مستند عالمی اعداد و شمار نے اس بے بنیاد بیانیے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔
حقائق بمقابلہ پروپیگنڈا
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق پوری دنیا میں تانبے کے کل معلوم ذخائر کی مقدار تقریباً 980 ملین ٹن ہے۔ اس تناظر میں صرف ایک علاقے یعنی شمالی وزیرستان میں 36,000 ملین ٹن تانبے کی موجودگی کا دعویٰ عقلِ سلیم سے عاری اور تکنیکی طور پر ناممکن ہے۔ یہ مقدار دنیا بھر کے مجموعی ذخائر سے بھی کئی گنا زیادہ دکھائی گئی ہے، جو واضح طور پر عوام میں بے چینی پھیلانے کے لیے گھڑا گیا ایک جھوٹ ہے۔
ریاست مخالف بیانیے کا تدارک
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بے بنیاد دعوے سوشل میڈیا پر ریاست کے خلاف نفرت انگیزی اور گمراہ کن بیانیہ پھیلانے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اس پوسٹ میں موجود ہر سطر حقائق کے منافی ہے، جس کا مقصد عوام کو اداروں کے خلاف اکسانا اور غلط معلومات کے ذریعے افراتفری پیدا کرنا ہے۔
عوامی اپیل
شہریوں سے گزارش کی گئی ہے کہ اس طرح کے مضحکہ خیز دعوؤں کو شیئر کرنے یا ان پر یقین کرنے سے پہلے لازماً ان کی تصدیق کریں اور مستند ذرائع کا حوالہ دیکھیں۔ غیر تصدیق شدہ معلومات کا پھیلاؤ نہ صرف ملکی ساکھ کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ یہ قومی سلامتی کے خلاف دشمن عناصر کے پروپیگنڈے کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔