"> اقوامِ متحدہ کو درپیش نقدی بحران عالمی امن مشنز کے لیے خطرہ قرار - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

اقوامِ متحدہ کو درپیش نقدی بحران عالمی امن مشنز کے لیے خطرہ قرار

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نمائندے عاصم افتخار نے کہا ہے کہ ادارے کے پاس پیسوں کی کمی عالمی امن کے لیے بڑا خطرہ ہے، جس سے جنگ زدہ علاقوں میں جاری مشنز رک سکتے ہیں
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نمائندے عاصم افتخار نے کہا ہے کہ ادارے کے پاس پیسوں کی کمی عالمی امن کے لیے بڑا خطرہ ہے، جس سے جنگ زدہ علاقوں میں جاری مشنز رک سکتے ہیں

عالمی امن مشنز کو درپیش مالی مشکلات پر پاکستان کا اہم بیان؛ سفیر عاصم افتخار کا کہنا ہے کہ فنڈز کی کمی سے دنیا بھر میں جاری امن کی کوششیں ناکام ہو سکتی ہیں

February 21, 2026

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے ادارے کو درپیش نقدی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مالی وسائل کی کمی محض ایک بجٹ کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ عالمی امن و استحکام کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ فنڈز کی عدم دستیابی سے عالمی امن مشنز کی صلاحیتیں براہِ راست متاثر ہو رہی ہیں۔

امن مشنز کی اہمیت اور چیلنجز

عاصم افتخار نے اپنے خطاب میں کہا کہ اقوامِ متحدہ کے امن مشنز کمزور تنازعات کو دوبارہ مکمل جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے سب سے مؤثر اور کم خرچ ذریعہ ہیں۔ یہ مشنز سیاسی مکالمے، جنگ بندی کے نفاذ اور ریاستی اداروں کی تشکیل کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں۔ تاہم فنڈز کی کمی کا براہِ راست اثر فوجی دستوں کے گشت میں کمی، ادائیگیوں میں تاخیر اور مشنز کی عملی تیاری پر پڑ رہا ہے، جو شہریوں کے تحفظ کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔

عدم استحکام کا پھیلاؤ

پاکستانی مندوب نے متنبہ کیا کہ سرحد پار خطرات کے اس دور میں اگر غیر مستحکم ریاستیں مدد سے محروم رہیں تو وہ جلد ہی پورے خطے کے لیے عدم استحکام کا مرکز بن سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقل فیلڈ موجودگی اور فوری ردِعمل کی صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لیے قابلِ پیش گوئی اور پائیدار مالی وسائل کا ہونا ناگزیر ہے۔ مسلح گروہوں کو روکنے اور متحارب فریقین کے درمیان اعتماد سازی کے لیے امن دستوں کا فعال ہونا ضروری ہے۔

سرمایہ کاری کی ضرورت

پاکستان نے عالمی برادری پسے کہا ہے کہ امن مشنز میں سرمایہ کاری دراصل پیشگی سفارت کاری اور اجتماعی سلامتی میں سرمایہ کاری ہے۔ عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ فوجیوں کے حوصلے اور سازوسامان کی تیاری کو برقرار رکھنے کے لیے مالی بحران کا فوری حل نکالنا ہو گا تاکہ عالمی امن کی کوششیں ثمر آور ثابت ہو سکیں۔

پاک روس سفارتی ملاقات: افغانستان اور علاقائی سلامتی پر اہم مشاورت

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *