"> امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے خلاف محدود فوجی کارروائی پر غور - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے خلاف محدود فوجی کارروائی پر غور

جنیوا میں جاری سفارتی رابطوں کے ساتھ ساتھ امریکہ نے خطے میں اپنی فوجی تعیناتی بڑھا دی ہے۔ اس تعیناتی میں دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز بھی شامل ہے جو بتدریج مشرقِ وسطیٰ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اس پیش رفت کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیاری کو یقینی بنانا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے خلاف محدود فوجی کارروائی پر غور

ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران ایک ممکنہ معاہدے کے مسودے پر کام کر رہا ہے جسے آئندہ دنوں میں امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے حوالے کیا جائے گا۔

February 21, 2026

امریکہ نے ایران کے قریب اپنی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے جبکہ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق آئندہ دنوں میں ایران پر محدود نوعیت کی فوجی کارروائی کا امکان زیرِ غور ہے۔ دوسری جانب ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ مکمل فوجی تیاری کی حالت میں ہے اور کسی بھی ممکنہ اقدام کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے جمعہ کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عندیہ دیا کہ وہ ایران پر محدود فوجی حملے کے آپشن پر غور کر رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے مختصر توقف کے بعد کہا کہ وہ اس امکان پر سوچ رہے ہیں۔

امریکی اخبار دی وال اسٹریٹ جنرل نے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے محدود فوجی کارروائی کے امکان کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ تہران کو جوہری معاہدے سے متعلق امریکی شرائط قبول کرنے پر آمادہ کیا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق ممکنہ کارروائی میں فوجی یا سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم اخبار نے واضح کیا کہ ابھی تک کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا اور مختلف عسکری آپشنز پر غور جاری ہے۔

ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران ایک ممکنہ معاہدے کے مسودے پر کام کر رہا ہے جسے آئندہ دنوں میں امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے حوالے کیا جائے گا۔ ان کے مطابق ایران سفارتی راستہ اختیار کرنے کا خواہاں ہے، تاہم قومی مفادات پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

جنیوا میں جاری سفارتی رابطوں کے ساتھ ساتھ امریکہ نے خطے میں اپنی فوجی تعیناتی بڑھا دی ہے۔ اس تعیناتی میں دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز بھی شامل ہے جو بتدریج مشرقِ وسطیٰ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اس پیش رفت کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیاری کو یقینی بنانا ہے۔

علاقائی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نہایت حساس ہے۔ ایک جانب سفارتی کوششیں جاری ہیں تو دوسری جانب فوجی تیاریوں میں اضافہ خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب واشنگٹن اور تہران کے آئندہ اقدامات پر مرکوز ہیں کہ آیا معاملہ مذاکرات کے ذریعے حل ہوگا یا کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔

دیکھیے: پاک روس سفارتی ملاقات: افغانستان اور علاقائی سلامتی پر اہم مشاورت

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *