افغانستان کے مشرقی اور جنوب مشرقی علاقوں میں اتوار کی شب متعدد دھماکوں اور فضائی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق صوبہ پکتیکا کے علاقے مرغا میں یکے بعد دیگرے کئی دھماکے سنے گئے، جس کے بعد مزید تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق آج 11 بج کر 50 منٹ پر برمل کے علاقے میں واقع بنوسی مدرسہ پر ایک نامعلوم طیارے کی جانب سے میزائل فائر کیے گئے۔ ابتدائی رپورٹس میں جانی و مالی نقصان کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں، تاہم سرکاری سطح پر ابھی تک تصدیق سامنے نہیں آئی۔
اپ ڈیٹ | افغانستان کے صوبہ پکتیکا کے علاقے مرغا میں واقع بنوسی مدرسہ جو کہ خوارج کی پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہوتا تھا، میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں مبینہ طور پر 10 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ علاقہ کمانڈر خارجی اختر محمد مرکز سے منسلک بتایا جاتا…
— HTN Urdu (@htnurdu) February 21, 2026
ذرائع کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر آٹھ مختلف اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ حملوں کا دائرہ صوبہ خوست، پکتیا، پکتیکا اور ننگرہار تک پھیلا ہوا بتایا جا رہا ہے۔ اسی دوران ارگون (پکتیا) میں بھی تازہ حملے کی اطلاع ملی ہے۔
تاحال کسی گروہ یا ملک کی جانب سے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی، جبکہ متاثرہ علاقوں میں صورتحال کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔ حکام کی جانب سے بھی باضابطہ بیان کا انتظار ہے۔
اپ ڈیٹ
افغانستان کے صوبہ پکتیکا کے علاقے مرغا میں واقع بنوسی مدرسہ میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں مبینہ طور پر 10 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ علاقہ کمانڈر خارجی اختر محمد مرکز سے منسلک بتایا جاتا ہے۔ ادھر صوبہ ننگرہار میں بھی افغان طالبان کی ایک چوکی کو نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں، جہاں متعدد ہلاکتوں اور زخمیوں کی خبر سامنے آ رہی ہے۔
اپ ڈیٹ | افغانستان کے مشرقی اور جنوب مشرقی علاقوں میں اتوار کی شب متعدد دھماکوں اور فضائی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق صوبہ پکتیکا کے علاقے مرغا میں یکے بعد دیگرے کئی دھماکے سنے گئے، جس کے بعد مزید تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق آج دن 11 بج کر… pic.twitter.com/O9hBBQobR9
— HTN Urdu (@htnurdu) February 21, 2026
ذمہ داری پاکستان نے قبول کر لی
پاکستان نے حالیہ خودکش حملوں کے تناظر میں سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ اور محدود نوعیت کی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق 21 فروری 2026 کو کہا گیا ہے کہ پاکستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات، جن میں اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں میں حملے شامل ہیں جبکہ آج بنوں میں ماہِ رمضان کے دوران پیش آنے والا واقعہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے، کے بارے میں پاکستان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ یہ کارروائیاں خوارج نے اپنی افغانستان میں موجود قیادت اور ہینڈلرز کی ہدایت پر کیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں کی ذمہ داری افغانستان میں موجود پاکستانی طالبان، جو فتنہ الخوارج اور اس سے منسلک گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں، اور داعش نے قبول کی۔
پاکستان نے مؤقف اختیار کیا کہ افغان طالبان حکومت کو متعدد بار کہا گیا کہ وہ قابلِ تصدیق اقدامات کرے تاکہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہو، تاہم افغان عبوری حکومت کی جانب سے مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔
Press Release
— Ministry of Information & Broadcasting (@MoIB_Official) February 21, 2026
21 February, 2026
In the aftermath of recent suicide bombing incidents in Pakistan, including Imam Bargah at Islamabad, one each in Bajaur and Bannu followed by another incident today in Bannu during the holy month of Ramzan, Pakistan has conclusive evidence that…
پریس ریلیز کے مطابق پاکستان نے جوابی اقدام کے طور پر پاکستان-افغان سرحدی علاقے میں فتنہ الخوارج اور اس سے وابستہ گروہوں اور داعش کے سات دہشت گرد کیمپس اور ٹھکانوں کو نہایت درستگی اور احتیاط کے ساتھ نشانہ بنایا۔
پاکستان نے افغان عبوری حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور خوارج و دیگر دہشت گرد عناصر کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔ بیان میں کہا گیا کہ پاکستانی عوام کی سلامتی اولین ترجیح ہے۔ ساتھ ہی بین الاقوامی برادری سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ طالبان حکومت کو دوحہ معاہدے کے تحت اپنے وعدوں کی پاسداری پر آمادہ کرے تاکہ خطے اور دنیا میں امن و استحکام یقینی بنایا جا سکے۔