سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے اہم مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں سعودیہ سمیت 19 ممالک کے وزرائے خارجہ، عرب لیگ اور او آئی سی کے سیکریٹری جنرلز نے مغربی کنارے پر اسرائیلی کنٹرول کو وسعت دینے کے حالیہ فیصلوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔
مشترکہ بیان میں برازیل، فرانس، ڈنمارک، فن لینڈ، آئس لینڈ، جمہوریہ انڈونیشیا، آئرلینڈ، مصر، ہاشمی مملکتِ اردن، گرینڈ ڈچی آف لکسمبرگ، مملکتِ ناروے، ریاستِ فلسطین، جمہوریہ پرتگال، ریاستِ قطر، جمہوریہ سلووینیا، مملکتِ اسپین، مملکتِ سویڈن اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ شامل ہیں۔ عالمی رہنماؤں نے اسرائیل کے ان اقدامات کو عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
#Statement | We, the Foreign Ministers of the Kingdom of Saudi Arabia, the Federative Republic of Brazil, the French Republic, the Kingdom of Denmark, the Republic of Finland, the Republic of Iceland, the Republic of Indonesia, Ireland, the Arab Republic of Egypt, the Hashemite… pic.twitter.com/VgrV2EXo9t
— Foreign Ministry 🇸🇦 (@KSAmofaEN) February 23, 2026
اعلامیے کے مطابق اسرائیل کے حالیہ فیصلے مغربی کنارے پر غیر قانونی قبضے کو مزید وسعت دینے کی دانستہ کوشش ہیں۔ ان اقدامات کے ذریعے فلسطینی اراضی کو نام نہاد اسرائیلی “ریاستی زمین” قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد غیر قانونی بستیوں کی تعمیر میں تیزی لانا اور خطے میں اسرائیلی انتظامیہ کے اثر و رسوخ کو مزید مستحکم کرنا ہے۔
بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے زمین کی درجہ بندی میں یہ تبدیلیاں اور آبادکاری کی سرگرمیاں فلسطینیوں کے حقوق پر شب خون مارنے کے مترادف ہیں۔ عالمی برادری نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ ان غیر قانونی اقدامات سے فوری طور پر دستبردار ہو، کیونکہ یہ عمل خطے میں قیامِ امن کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔
دیکھیے: غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ختم کی جائیں؛ وزیرِاعظم شہباز شریف کا عالمی برادری سے مطالبہ