پاک افغان سرحد کے دونوں جانب منگل کے روز کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا جب ضلع خیبر اور افغانستان کے صوبہ ننگرہار کے سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ سرکاری اور مقامی ذرائع کے مطابق فائرنگ کا تبادلہ ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے کیا گیا۔
پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ضلع خیبر کے علاقے ذخہ خیل کے سرحدی مقام پر جھڑپیں جاری رہیں، جبکہ افغانستان کے ضلع نازیان (ننگرہار) میں متعدد افغان چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ذرائع کے مطابق فوری جوابی کارروائی میں مبینہ طور پر افغان پوسٹوں کو “خاموش” کرا دیا گیا۔ تاہم جانی نقصان کی مکمل تفصیلات تاحال سامنے نہیں آ سکیں اور آزاد ذرائع سے ان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
افغانستان کی جانب سے مقامی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ نازیان اور اچین کے سرحدی اضلاع میں طالبان فورسز اور پاکستانی اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جو کچھ وقت تک جاری رہیں۔ تادمِ تحریر افغان حکام کی جانب سے باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب پاکستانی حکام نے سرحد کے قریب شورش پسندوں کے حملوں میں پانچ پولیس افسران کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔ اعلیٰ حکام نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرحدی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات مزید سخت کیے جائیں گے۔
یاد رہے کہ ضلع خیبر کے بعض سرحدی علاقوں میں ماضی میں کالعدم تنظیم لشکرِ اسلام کا اثر و رسوخ رہا ہے، جبکہ اس کے سربراہ منگل باغ کا مرکز بھی انہی علاقوں میں بتایا جاتا تھا۔ سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق سرحدی پٹی میں مختلف مسلح گروہوں کی موجودگی اور باہمی بداعتمادی اکثر کشیدگی کو ہوا دیتی رہی ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ جھڑپیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب دونوں ممالک کے تعلقات پہلے ہی تناؤ کا شکار ہیں۔ ماہرین کے مطابق کسی بھی بڑے تصادم سے گریز اور فوری سفارتی رابطہ ہی صورتحال کو مزید بگڑنے سے روک سکتا ہے۔
سرحدی علاقوں میں مقامی آبادی میں خوف و ہراس پایا جا رہا ہے، جبکہ شہریوں نے دونوں اطراف سے تحمل اور کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور مزید تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی۔