وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے دوحہ میں ریاستِ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے اہم ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے مکمل دائرہ کار کا جائزہ لیا گیا اور باہمی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود تھے، جسے اعلیٰ سطحی قومی ہم آہنگی اور مشترکہ حکمتِ عملی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم آفس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور قطر کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا اور سیاسی روابط کی مثبت رفتار کو سراہا۔ فریقین نے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں، بالخصوص اقتصادی تعاون، توانائی، سرمایہ کاری اور تجارت میں شراکت داری کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔ امیرِ قطر نے پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعاون کو بلند تر اسٹریٹجک سطح تک لے جانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
_PMO Press Release_
— Ishaq Dar (@MIshaqDar50) February 25, 2026
*_Prime Minister's Office_*
_Press Wing_
Doha : Tuesday, 24 February, 2026
*_Meeting of the PM of Pakistan with Emir of Qatar_*
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif held a meeting with His Highness Sheikh Tamim bin Hamad Al Thani, Emir of the State of… pic.twitter.com/fmMQx9bgOn
ملاقات کے دوران علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کے حل کے لیے مکالمہ، سفارتکاری اور پرامن ذرائع ہی دیرپا استحکام کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ اس ضمن میں کثیرالجہتی فورمز پر قریبی تعاون جاری رکھنے اور اہم علاقائی امور پر مشاورت برقرار رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
سرکاری بیان کے مطابق یہ دورہ پاکستان اور قطر کے درمیان مضبوط سیاسی روابط کو ٹھوس اقتصادی نتائج میں تبدیل کرنے کی مشترکہ خواہش کا عکاس ہے۔ مبصرین کے مطابق قطر کی جانب سے اقتصادی شراکت داری کو مزید وسعت دینے کی آمادگی پاکستان کی معاشی سمت اور سرمایہ کاری کے امکانات پر اعتماد کا اظہار ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے امیرِ قطر کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی جسے انہوں نے خوشی سے قبول کر لیا۔ امیرِ قطر کا دورہ رواں سال متوقع ہے، جس سے دوطرفہ تعلقات کو مزید عملی جہت ملنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اعلیٰ سطحی سیاسی و عسکری قیادت کی مشترکہ موجودگی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان اپنی علاقائی سفارتکاری کو فعال انداز میں آگے بڑھا رہا ہے اور خلیجی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو اسٹریٹجک بنیادوں پر مستحکم کرنے کے لیے یکسو ہے۔
دیکھیے: غزہ استحکام فورس: پاکستان فوجی دستے بھیجنے والے ممالک میں شامل نہیں