اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل میں ویٹو کے اختیار کے حوالے سے پاکستان کے دیرینہ اور اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی امن و امان کے ضامن اس ادارے میں ویٹو پاور کو یا تو مکمل طور پر ختم کیا جائے یا اس کے استعمال پر کڑی پابندیاں عائد کی جائیں۔
اقوامِ متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ پاکستان مؤقف نہایت واضح اور مستقل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ مستقل اراکین کی جانب سے ویٹو کے من مانے استعمال نے عالمی مسائل کو سلجھانے کے بجائے مزید الجھایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ویٹو کے اختیار میں کسی بھی قسم کی توسیع یا نئے مستقل اراکین کا اضافہ کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا، کیونکہ مزید ویٹو اختیارات مسئلے کو مزید پیچیدہ اور غیر جمہوری بنا دیں گے۔
Pakistan’s policy position remains clear and consistent – veto should either be abolished or, at a minimum its use by the current permanent members severely restricted. Any expansion of the veto or addition of new individual permanent members is firmly opposed, as more vetoes…
— Asim Iftikhar Ahmad, PR of Pakistan to the UN (@PakistanPR_UN) April 15, 2026
اصولی مؤقف اور عالمی سلامتی
عاصم افتخار احمد نے اس مؤقف کو ایک اصولی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان سلامتی کونسل کو زیادہ شفاف، جوابدہ اورجمہوری بنانے کا حامی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ویٹو کے نظام میں اصلاحات نہ کی گئیں اور اسے محض چند ممالک کی اجارہ داری تک محدود رکھا گیا تو اقوامِ متحدہ کے قیام کے بنیادی مقاصد حاصل کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ پاکستانی مندوب کے مطابق سلامتی کونسل میں اصلاحات کا عمل تمام رکن ممالک کی برابری اور انصاف کے اصولوں پر مبنی ہونا چاہیے۔