کابل: افغانستان کے سابق قومی سلامتی مشیر احمد ضیاء سراج نے طالبان حکومت پر فتنہ الخوارج سمیت دیگر عالمی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ قریبی روابط اور تعاون کے الزامات عائد کیے ہیں، جس کے بعد سکیورٹی صورتحال سے متعلق نئے خدشات سامنے آ گئے ہیں۔
افغان میڈیا کے مطابق احمد ضیاء سراج نے دعویٰ کیا کہ طالبان حکومت مختلف دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے اور اس تعاون میں اسلحہ کی فراہمی اور خودکش حملہ آوروں کا تبادلہ بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عناصر افغان سرزمین کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
سابق افغان عہدیدار کے مطابق اس مبینہ گٹھ جوڑ کے نتیجے میں نہ صرف افغانستان بلکہ خطے کے دیگر ممالک کی سکیورٹی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں کے باعث خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق افغان شہری اس صورتحال کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں اور ملک میں امن و استحکام کے امکانات متاثر ہو رہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے الزامات خطے میں سکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
دوسری جانب طالبان حکومت کی جانب سے ان الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
واضح رہے کہ ماضی میں بھی طالبان پر مختلف شدت پسند تنظیموں کے ساتھ روابط کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق مشکل رہی ہے۔
دیکھئیے:جھنگ اور سرگودھا میں خفیہ آپریشن، خودکش بمبار سمیت فتنہ الخوارج کے 2 دہشت گرد گرفتار