مددگار یا مکار؟ جب محافظ ہی قاتل اور درندے بن جائیں

مددگار یا مکار؟

مظفرگڑھ اور فیصل آباد کے افسوسناک واقعات نے رشتوں کے خلوص اور تحفظ کے دعوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنہیں ہم اپنا محافظ اور ہمدرد سمجھتے ہیں، وہ حقیقت میں مددگار ہیں یا مکار؟

مودی سرکار کے منظورِ نظر اب ایمنیسٹی کے سربراہ؛ پاکستان کے خلاف منظم بین الاقوامی سازش

ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی ریجنل ڈائریکٹر سمرتی سنگھ کے بھارتی خفیہ ایجنسیوں سے روابط بے نقاب؛ عالمی ادارے کا پلیٹ فارم پاکستان کے خلاف منظم پراپیگنڈے کے لیے استعمال ہونے کا انکشاف
ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی ریجنل ڈائریکٹر سمرتی سنگھ کے بھارتی خفیہ ایجنسیوں سے روابط بے نقاب؛ عالمی ادارے کا پلیٹ فارم پاکستان کے خلاف منظم پراپیگنڈے کے لیے استعمال ہونے کا انکشاف

ایمنیسٹی انٹرنیشنل جنوبی ایشیا میں بھارتی اثر و رسوخ کا غلبہ۔ سمرتی سنگھ کی تعیناتی اور ٹائمز آف انڈیا سے ان کے روابط۔ کیا عالمی ادارہ پاکستان مخالف ایجنڈے کا نیا مرکز بن چکا ہے؟

February 25, 2026

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ‘ایمنیسٹی انٹرنیشنل’ کے جنوبی ایشیا کے دفتر کے حوالے سے سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں، جن میں تنظیم کی غیر جانبداری اور اس کے بھارتی ریاستی مفادات سے جڑے ہونے پر شدید سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ مستند ذرائع کے مطابق ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے جنوبی ایشیا کے بیانیے کو بھارتی اسٹیبلشمنٹ اور انٹیلی جنس اداروں کے زیرِ اثر لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

اس تناظر میں علاقائی ڈائریکٹر سمرتی سنگھ کا کردار خاص طور پر زیرِ بحث ہے۔ انکشاف ہوا ہے کہ سمرتی سنگھ ماضی میں بھارتی میڈیا ہاؤس ‘ٹائمز آف انڈیا’ سے وابستہ رہی ہیں، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے فنڈز اور اثر و رسوخ کے تحت کام کرتا ہے۔ مزید برآں سمرتی سنگھ کے بھارتی وزارتِ دفاع کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ساتھ قریبی روابط اور مودی سرکار کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے مسلسل جواز پیش کرنے کے عمل نے ان کی پیشہ ورانہ ساکھ کو مشکوک بنا دیا ہے۔

بیانیے کے مطابق ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے جنوبی ایشیا کے دفتر کا زیادہ تر عملہ بھارت میں مقیم ہے، جو براہِ راست بھارتی ایجنسیوں کے دباؤ یا ایما پر کام کر رہا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس ڈھانچے کا بنیادی مقصد بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی آڑ لے کر پاکستانی ریاست کے خلاف ایک معاندانہ اور دشمنانہ ایجنڈا مرتب کرنا ہے۔ ایک ایسے شخص کی ایمنیسٹی جیسے ادارے میں کلیدی تعیناتی، جو مودی دورِ حکومت میں ہونے والے مظالم کی پردہ پوشی کرتا رہا ہو، عالمی ادارے کی غیر جانبداری پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کا سیاسی مقاصد اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے آلہ کار کے طور پر استعمال ہونا عالمی سطح پر ان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ پاکستان کی جانب سے اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ کس طرح ایک عالمی پلیٹ فارم کو مخصوص علاقائی مفادات اور پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا کے لیے استعمال کرنے کی راہ ہموار کی گئی ہے۔

دیکھیے: کونن پوشپورہ: 1991 کی وہ رات جو آج بھی کشمیری خواتین کے دل دہلا دیتی ہے

متعلقہ مضامین

پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کا بدر ایم او یو دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی اور مشترکہ پیداوار میں تعاون بڑھانے کی اہم پیش رفت ہے۔

November 6, 2026

سعودی اتحاد نے مکہ ریجن کی جانب آنے والے ڈرون کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا ہے۔

November 6, 2026

چین نے ڈی ایف 61 بین البراعظمی میزائل کو راکٹ فورس میں شامل کرلیا، شمالی کوریا کے نئے تجربات اور جاپان کی جوہری پالیسی بھی عالمی توجہ کا مرکز بن گئی۔

November 6, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *