"> افغان صوبہ کنڑ سے مہمند کی سرحدی چوکیوں پر حملہ، شدید جھڑپیں جاری - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

افغان صوبہ کنڑ سے مہمند کی سرحدی چوکیوں پر حملہ، شدید جھڑپیں جاری

ابتدائی اطلاعات میں حملہ آوروں کی تعداد تقریباً دو سو کے قریب بتائی جا رہی ہے۔ بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حملے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ عناصر بھی شامل ہو سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر تاحال باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
افغان صوبہ کنڑ سے مہمند کی سرحدی چوکیوں پر حملہ، شدید جھڑپیں جاری

دوسری جانب افغان حکام کی طرف سے بھی فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی برقرار ہے اور مزید معلومات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

February 26, 2026

ضلع مہمند کی سرحدی تحصیل بائیزئی میں افغان سرحد کی جانب سے مسلح افراد کے حملے کے بعد شدید فائرنگ اور جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق حملہ افغانستان کے صوبہ کنڑ کے ضلع کنڑ خاص کی سمت سے کیا گیا، جہاں سے درجنوں مسلح افراد نے پاکستانی سکیورٹی فورسز کی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سرحد پار علاقوں میں پیشگی طور پر بعض دیہات خالی کروا لیے گئے تھے، جس کے بعد بھاری اسلحے سے لیس افراد پاکستانی حدود کے قریب پہنچے اور چوکیوں پر فائرنگ شروع کر دی۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق فورسز نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں علاقے میں شدید جھڑپیں جاری ہیں۔

ابتدائی اطلاعات میں حملہ آوروں کی تعداد تقریباً دو سو کے قریب بتائی جا رہی ہے۔ بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حملے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ عناصر بھی شامل ہو سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر تاحال باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

سکیورٹی حکام کے مطابق صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور سرحدی علاقوں میں نفری بڑھا دی گئی ہے۔ ممکنہ نقصانات اور جانی صورتحال سے متعلق تفصیلات تاحال واضح نہیں ہو سکیں۔

دوسری جانب افغان حکام کی طرف سے بھی فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی برقرار ہے اور مزید معلومات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

دیکھیے: پاکستان کی کارروائیوں کے بعد افغانستان میں قبائلی دباؤ میں اضافہ، طالبان حکومت کو نئے چیلنجز درپیش

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *