ضلع مہمند کی سرحدی تحصیل بائیزئی میں افغان سرحد کی جانب سے مسلح افراد کے حملے کے بعد شدید فائرنگ اور جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق حملہ افغانستان کے صوبہ کنڑ کے ضلع کنڑ خاص کی سمت سے کیا گیا، جہاں سے درجنوں مسلح افراد نے پاکستانی سکیورٹی فورسز کی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سرحد پار علاقوں میں پیشگی طور پر بعض دیہات خالی کروا لیے گئے تھے، جس کے بعد بھاری اسلحے سے لیس افراد پاکستانی حدود کے قریب پہنچے اور چوکیوں پر فائرنگ شروع کر دی۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق فورسز نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں علاقے میں شدید جھڑپیں جاری ہیں۔
ابتدائی اطلاعات میں حملہ آوروں کی تعداد تقریباً دو سو کے قریب بتائی جا رہی ہے۔ بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حملے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ عناصر بھی شامل ہو سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر تاحال باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
سکیورٹی حکام کے مطابق صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور سرحدی علاقوں میں نفری بڑھا دی گئی ہے۔ ممکنہ نقصانات اور جانی صورتحال سے متعلق تفصیلات تاحال واضح نہیں ہو سکیں۔
دوسری جانب افغان حکام کی طرف سے بھی فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی برقرار ہے اور مزید معلومات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔