سکیورٹی ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے طالبان رجیم کے خلاف “آپریشن غضب للحق” کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، جس کے تحت پاک۔افغان سرحد کے مختلف سیکٹرز میں کارروائیاں جاری ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چترال سیکٹر میں افغان جانب کی متعدد پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں سرکانو، داؤد پوسٹ اور الماس پوسٹ شامل ہیں۔
اطلاعات کے مطابق چترال میں ایک افغان پوسٹ کو “درست اور کامیاب نشانہ” بنا کر تباہ کیا گیا۔ مزید بتایا گیا ہے کہ باریکوٹ بیس کو شدید نقصان پہنچا، سرکانو جی پی جزوی طور پر تباہ ہوئی، داؤد پوسٹ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا جبکہ الماس پوسٹ مکمل طور پر تباہ کر دی گئی۔ سکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بعض مقامات پر طالبان اہلکار چوکیوں کو خالی کر کے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔
سکیورٹی حکام کے مطابق چترال، خیبر، مہمند، کرم اور باجوڑ سیکٹرز میں طالبان حکومت کی فورسز کو بھرپور جواب دیا جا رہا ہے اور دو طرفہ فائرنگ کا شدید تبادلہ جاری ہے۔ بعض غیر مصدقہ اطلاعات میں 12 افغان چوکیوں پر پاکستانی پرچم لہرانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے، تاہم سرکاری سطح پر اس کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
دوسری جانب پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بلوچستان کے ضلع ژوب میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران مبینہ طور پر بھارتی اسپانسرڈ 10 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ کارروائی کے دوران اسلحہ اور دیگر سامان بھی برآمد کیے جانے کی اطلاع ہے۔