"> ذبیح اللہ مجاہد کا دعویٰ حقیقت کے منافی، کے پی حکومت نے حقائق واضح کر دیے - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

ذبیح اللہ مجاہد کا دعویٰ حقیقت کے منافی، کے پی حکومت نے حقائق واضح کر دیے

خیبر پختونخوا حکومت نے ذبیح اللہ مجاہد کے پاک افغان سرحدی کشیدگی سے متعلق دعوے کو فیکٹ چیک میں غلط قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ شیئر کی گئی تصویر وزیرستان میں دہشت گرد حملے کے شہداء کی ہے جسے پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا گیا
خیبر پختونخوا حکومت نے ذبیح اللہ مجاہد کے پاک افغان سرحدی کشیدگی سے متعلق دعوے کو فیکٹ چیک میں غلط قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ شیئر کی گئی تصویر وزیرستان میں دہشت گرد حملے کے شہداء کی ہے جسے پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا گیا

وزیرستان میں دہشت گرد حملے کی تصویر کو پاک افغان سرحدی کشیدگی سے جوڑنے کی کوشش ناکام، حقائق منظرِ عام پر آگئے

February 27, 2026

خیبر پختونخوا حکومت کے آفیشل فیکٹ چیک یونٹ نے افغان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تصویر اور اس سے وابستہ دعوے کو مکمل طور پر غلط اور گمراہ کن قرار دے دیا ہے۔ ذبیح اللہ مجاہد نے ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی تھی کہ یہ حالیہ پاک افغان سرحدی کشیدگی کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان کی ہے، تاہم تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ اس تصویر کا سرحد پار کسی بھی حالیہ تصادم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اصل حقیقت
مستند رپورٹس اور حقائق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ زیرِ گردش تصویر دراصل وزیرستان میں خوارج عناصر کے ایک بزدلانہ دہشت گرد حملے کی ہے، جس میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کے اہلکار شہید ہوئے تھے۔ یہ واقعہ مکمل طور پر پاکستان کی حدود کے اندر پیش آیا تھا اور اس کا سرحد پار سے ہونے والی کسی فوجی جھڑپ یا حالیہ پاک افغان سرحدی تنازع سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اس تصویر کو موجودہ سرحدی صورتحال سے جوڑنے کا کوئی بھی معتبر ثبوت موجود نہیں ہے۔

عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش
کے پی فیکٹ چیک یونٹ نے اس عمل کو ایک دانستہ گمراہ کن حکمتِ عملی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہداء کی تصاویر کو اصل سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کرنا ایک معروف پروپیگنڈا تکنیک ہے۔ اس طرح کے ہتھکنڈوں کا مقصد حقائق کو مسخ کرنا، عوامی جذبات کو بھڑکانا اور سرحدوں پر کشیدگی کے حوالے سے غلط بیانیہ تشکیل دینا ہے۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ غیر متعلقہ تصاویر کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا صحافتی و اخلاقی اقدار کے منافی ہے

دیکھیے: آپریشن “غضب للحق” میں شدت، 133 افغان اہلکار ہلاک ہونے کا دعویٰ؛ کابل سمیت مختلف شہروں میں فضائی کارروائیاں

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *