افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ملک چھوڑنے پر مجبور ہونے والی خواتین فٹبالرز پانچ سال کی مسلسل جدوجہد کے بعد فیفا کی اجازت سے بین الاقوامی مقابلوں میں واپسی کے لیے تیار ہیں۔

June 3, 2026

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں معدنی وسائل پر تنازع کے بعد طالبان کی مرکزی قیادت اور مقامی کمانڈروں میں اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں، جس پر امیر ہیبت اللہ نے سخت کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔

June 3, 2026

کینیڈا میں بھارت سے جاری ریکارڈ امیگریشن اور ٹورنٹو جیسے شہروں میں تیزی سے بدلتی آبادیاتی صورتحال نے ملکی وسائل اور امیگریشن پالیسی پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

June 3, 2026

خیبر پختونخوا میں گومل یونیورسٹی بحران اور پی ایچ ڈی اساتذہ کی برطرفی پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو عوامی مسائل نظرانداز کرنے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔

June 3, 2026

نیپال کے انناپورنا کنزرویشن ایریا میں سیاحوں کے کچرا پھیلانے پر مقامی افراد نے سخت ردعمل دیتے ہوئے انہیں موقع پر صفائی کروائی، جس کے بعد سیاحتی آداب اور ماحولیاتی ضوابط پر بحث شروع ہو گئی۔

June 3, 2026

شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز نے مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوجی چوکی پر خودکش حملے کی کوشش کو ناکام بنا دیا اور تعاقب کے دوران 4 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

June 3, 2026

حقانی صاحب! اپنے نام کی ہی لاج رکھ لیں اور ہمارے دشمن کا کردار ادا نہ کریں؛ خواجہ آصف کا سراج الدین حقانی کو دوٹوک پیغام

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ 1979 سے 9/11 تک کے عرصے میں افغانستان کے مختلف دھڑوں کے درمیان خانہ جنگی جاری رہی، جس میں پاکستان نے بارہا ثالثی کا کردار ادا کیا اور فریقین کو صلح کے لیے آمادہ کیا۔ اُن کے مطابق پاکستان نے تین نسلوں تک افغان قیادت اور عوام کی مہمان نوازی کی، مگر اس کا صلہ یہ ملا کہ پاکستان مخالف عناصر کو افغان سرزمین پر پناہ دی گئی۔
حقانی صاحب! اپنے نام کی ہی لاج رکھ لیں اور ہمارے دشمن کا کردار ادا نہ کریں؛ خواجہ آصف کا سراج الدین حقانی کو دوٹوک پیغام

واضح رہے کہ اس سے قبل سراج الدین حقانی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ماضی میں افغانوں کے اہداف مختلف تھے، تاہم اب تمام افغان ایک آواز ہو کر پاکستان کے خلاف لڑنے کے لیے تیار ہیں۔

February 28, 2026

وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغان طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں سوویت یونین کے خلاف جنگ کے دوران پاکستان دل و جان سے افغان مجاہدین کے ساتھ کھڑا رہا، مگر آج صورتحال بدل چکی ہے اور پاکستان کو بدلے میں تلخ تجربات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

خواجہ آصف نے اپنے بیان میں کہا کہ سوویت دور میں حقانی خاندان سمیت لاکھوں افغان مہاجرین کو پاکستان نے پناہ دی، دہائیوں تک ان کی میزبانی کی اور ہر ممکن تعاون فراہم کیا۔ اُن کے بقول پاکستان اور افغان قیادت کا اُس وقت ایک ہی ہدف تھا، جو عالمی طاقتوں کی پالیسیوں کے تحت طے پایا تھا۔

انہوں نے کہا کہ 9/11 کے بعد پاکستان نے نیٹو افواج کے ساتھ بطور سہولت کار کردار ادا کیا، تاہم امریکہ کی جانب سے پاکستان پر حقانی نیٹ ورک کی معاونت کا الزام بھی عائد کیا جاتا رہا۔ “ہم سے آپ کا پتہ پوچھا جاتا تھا، آج آپ ہی دنیا کو بتا دیں کہ یہ الزامات سچ تھے یا جھوٹ؟” وزیر دفاع نے سوال اٹھایا۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ 1979 سے 9/11 تک کے عرصے میں افغانستان کے مختلف دھڑوں کے درمیان خانہ جنگی جاری رہی، جس میں پاکستان نے بارہا ثالثی کا کردار ادا کیا اور فریقین کو صلح کے لیے آمادہ کیا۔ اُن کے مطابق پاکستان نے تین نسلوں تک افغان قیادت اور عوام کی مہمان نوازی کی، مگر اس کا صلہ یہ ملا کہ پاکستان مخالف عناصر کو افغان سرزمین پر پناہ دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ کابل میں اپنی ملاقات کے دوران انہوں نے سراج الدین حقانی سے درخواست کی تھی کہ پاکستان دشمن گروہوں کی اعانت نہ کی جائے۔ “ہم مالی تعاون تک دینے کو تیار تھے، مگر کوئی واضح ضمانت نہیں تھی کہ ہماری سرزمین کے خلاف سرگرمیاں بند ہوں گی،” انہوں نے کہا۔

وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ حقانی نام ایک بزرگ شخصیت سے منسوب ہے اور اس نسبت کا احترام کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے افغان قیادت سے مطالبہ کیا کہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل سراج الدین حقانی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ماضی میں افغانوں کے اہداف مختلف تھے، تاہم اب تمام افغان ایک آواز ہو کر پاکستان کے خلاف لڑنے کے لیے تیار ہیں۔

متعلقہ مضامین

افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ملک چھوڑنے پر مجبور ہونے والی خواتین فٹبالرز پانچ سال کی مسلسل جدوجہد کے بعد فیفا کی اجازت سے بین الاقوامی مقابلوں میں واپسی کے لیے تیار ہیں۔

June 3, 2026

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں معدنی وسائل پر تنازع کے بعد طالبان کی مرکزی قیادت اور مقامی کمانڈروں میں اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں، جس پر امیر ہیبت اللہ نے سخت کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔

June 3, 2026

کینیڈا میں بھارت سے جاری ریکارڈ امیگریشن اور ٹورنٹو جیسے شہروں میں تیزی سے بدلتی آبادیاتی صورتحال نے ملکی وسائل اور امیگریشن پالیسی پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

June 3, 2026

خیبر پختونخوا میں گومل یونیورسٹی بحران اور پی ایچ ڈی اساتذہ کی برطرفی پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو عوامی مسائل نظرانداز کرنے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔

June 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *