اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے ویٹو پاور کے خاتمے یا اس پر سخت پابندیوں کا مطالبہ کرتے ہوئے سلامتی کونسل میں نئے مستقل اراکین کی شمولیت کو مسترد کر دیا ہے

April 15, 2026

حکام کے مطابق اجلاس میں ہونے والی مشاورت کو آئندہ وزرائے خارجہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا، جو 17 اپریل کو ترکیے کے شہر انطالیہ میں انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر منعقد ہوگا۔

April 14, 2026

حکام کے مطابق یہ منشیات ایک ٹرانزٹ گاڑی کے ذریعے افغانستان سے قزاقستان منتقل کی جا رہی تھیں۔ گمرک پر اسکیننگ اور تفصیلی تلاشی کے دوران دیگوں کے اندر بنائے گئے خفیہ خانوں سے چرس برآمد کی گئی۔

April 14, 2026

ٹرمپ نے گفتگو کے دوران پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ وہ مذاکرات کے حوالے سے “بہترین کام” کر رہے ہیں۔ ایران پہلے ہی پاکستان کو مذاکرات کے لئے فیورٹ قرار دے چکا ہے۔

April 14, 2026

انجیل ضلع کے قریب ہونے والے حملے میں جاں بحق افراد کا تعلق زیادہ تر شیعہ برادری سے تھا۔ واقعے کے بعد بڑی تعداد میں لوگ جنازوں میں شریک ہوئے، جہاں طالبان کی جانب سے عوامی احتجاج پر عائد پابندیوں کے باوجود ہجوم جمع ہوا۔

April 14, 2026

حقانی صاحب! اپنے نام کی ہی لاج رکھ لیں اور ہمارے دشمن کا کردار ادا نہ کریں؛ خواجہ آصف کا سراج الدین حقانی کو دوٹوک پیغام

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ 1979 سے 9/11 تک کے عرصے میں افغانستان کے مختلف دھڑوں کے درمیان خانہ جنگی جاری رہی، جس میں پاکستان نے بارہا ثالثی کا کردار ادا کیا اور فریقین کو صلح کے لیے آمادہ کیا۔ اُن کے مطابق پاکستان نے تین نسلوں تک افغان قیادت اور عوام کی مہمان نوازی کی، مگر اس کا صلہ یہ ملا کہ پاکستان مخالف عناصر کو افغان سرزمین پر پناہ دی گئی۔
حقانی صاحب! اپنے نام کی ہی لاج رکھ لیں اور ہمارے دشمن کا کردار ادا نہ کریں؛ خواجہ آصف کا سراج الدین حقانی کو دوٹوک پیغام

واضح رہے کہ اس سے قبل سراج الدین حقانی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ماضی میں افغانوں کے اہداف مختلف تھے، تاہم اب تمام افغان ایک آواز ہو کر پاکستان کے خلاف لڑنے کے لیے تیار ہیں۔

February 28, 2026

وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغان طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں سوویت یونین کے خلاف جنگ کے دوران پاکستان دل و جان سے افغان مجاہدین کے ساتھ کھڑا رہا، مگر آج صورتحال بدل چکی ہے اور پاکستان کو بدلے میں تلخ تجربات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

خواجہ آصف نے اپنے بیان میں کہا کہ سوویت دور میں حقانی خاندان سمیت لاکھوں افغان مہاجرین کو پاکستان نے پناہ دی، دہائیوں تک ان کی میزبانی کی اور ہر ممکن تعاون فراہم کیا۔ اُن کے بقول پاکستان اور افغان قیادت کا اُس وقت ایک ہی ہدف تھا، جو عالمی طاقتوں کی پالیسیوں کے تحت طے پایا تھا۔

انہوں نے کہا کہ 9/11 کے بعد پاکستان نے نیٹو افواج کے ساتھ بطور سہولت کار کردار ادا کیا، تاہم امریکہ کی جانب سے پاکستان پر حقانی نیٹ ورک کی معاونت کا الزام بھی عائد کیا جاتا رہا۔ “ہم سے آپ کا پتہ پوچھا جاتا تھا، آج آپ ہی دنیا کو بتا دیں کہ یہ الزامات سچ تھے یا جھوٹ؟” وزیر دفاع نے سوال اٹھایا۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ 1979 سے 9/11 تک کے عرصے میں افغانستان کے مختلف دھڑوں کے درمیان خانہ جنگی جاری رہی، جس میں پاکستان نے بارہا ثالثی کا کردار ادا کیا اور فریقین کو صلح کے لیے آمادہ کیا۔ اُن کے مطابق پاکستان نے تین نسلوں تک افغان قیادت اور عوام کی مہمان نوازی کی، مگر اس کا صلہ یہ ملا کہ پاکستان مخالف عناصر کو افغان سرزمین پر پناہ دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ کابل میں اپنی ملاقات کے دوران انہوں نے سراج الدین حقانی سے درخواست کی تھی کہ پاکستان دشمن گروہوں کی اعانت نہ کی جائے۔ “ہم مالی تعاون تک دینے کو تیار تھے، مگر کوئی واضح ضمانت نہیں تھی کہ ہماری سرزمین کے خلاف سرگرمیاں بند ہوں گی،” انہوں نے کہا۔

وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ حقانی نام ایک بزرگ شخصیت سے منسوب ہے اور اس نسبت کا احترام کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے افغان قیادت سے مطالبہ کیا کہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل سراج الدین حقانی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ماضی میں افغانوں کے اہداف مختلف تھے، تاہم اب تمام افغان ایک آواز ہو کر پاکستان کے خلاف لڑنے کے لیے تیار ہیں۔

متعلقہ مضامین

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے ویٹو پاور کے خاتمے یا اس پر سخت پابندیوں کا مطالبہ کرتے ہوئے سلامتی کونسل میں نئے مستقل اراکین کی شمولیت کو مسترد کر دیا ہے

April 15, 2026

حکام کے مطابق اجلاس میں ہونے والی مشاورت کو آئندہ وزرائے خارجہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا، جو 17 اپریل کو ترکیے کے شہر انطالیہ میں انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر منعقد ہوگا۔

April 14, 2026

حکام کے مطابق یہ منشیات ایک ٹرانزٹ گاڑی کے ذریعے افغانستان سے قزاقستان منتقل کی جا رہی تھیں۔ گمرک پر اسکیننگ اور تفصیلی تلاشی کے دوران دیگوں کے اندر بنائے گئے خفیہ خانوں سے چرس برآمد کی گئی۔

April 14, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *