خواجہ آصف نے مزید کہا کہ 1979 سے 9/11 تک کے عرصے میں افغانستان کے مختلف دھڑوں کے درمیان خانہ جنگی جاری رہی، جس میں پاکستان نے بارہا ثالثی کا کردار ادا کیا اور فریقین کو صلح کے لیے آمادہ کیا۔ اُن کے مطابق پاکستان نے تین نسلوں تک افغان قیادت اور عوام کی مہمان نوازی کی، مگر اس کا صلہ یہ ملا کہ پاکستان مخالف عناصر کو افغان سرزمین پر پناہ دی گئی۔

February 28, 2026

کیا افغانستان واقعی کبھی فتح نہیں ہوا؟ ایچ ٹی این کی اس خصوصی رپورٹ میں سکندرِ اعظم، چنگیز خان اور بابر سمیت ان تمام فاتحین کا ذکر ہے جنہوں نے اس خطے کو مسخر کیا

February 28, 2026

حکومتِ افغانستان نے پاکستان کے انتباہ کے بعد شہریوں کو پرسکون رہنے، غیر ضروری سفر سے بچنے اور سیکیورٹی حکام سے تعاون کی ہدایت جاری کر دی ہے

February 28, 2026

​اس پورے منظر نامے کا سب سے خوفناک پہلو ہمارا ازلی دشمن انڈیا ہے۔ انڈیا کبھی نہیں چاہے گا کہ دو ایسے ممالک، جن کا کلمہ، مذہب، ثقافت، لباس اور زبان ایک ہو، کبھی ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوں۔ نئی دہلی کے لیے افغانستان صرف ایک پڑوسی نہیں بلکہ پاکستان کی کمر میں چھرا گھونپنے کا ایک “سیکنڈ فرنٹ” ہے۔

February 28, 2026

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے دعویٰ کیا ہے کہ ‘آپریشن غصب الحق’ کے دوران 331 افغان طالبان ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہوئے ہیں

February 28, 2026

ایران پر اسرائیلی حملے کے بعد نریندر مودی کے دورہ اسرائیل کو مسلمانوں کے خلاف ایک نئے عسکری و نظریاتی محاذ کی تشکیل سے جوڑا جا رہا ہے

February 28, 2026

حقانی صاحب! اپنے نام کی ہی لاج رکھ لیں اور ہمارے دشمن کا کردار ادا نہ کریں؛ خواجہ آصف کا سراج الدین حقانی کو دوٹوک پیغام

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ 1979 سے 9/11 تک کے عرصے میں افغانستان کے مختلف دھڑوں کے درمیان خانہ جنگی جاری رہی، جس میں پاکستان نے بارہا ثالثی کا کردار ادا کیا اور فریقین کو صلح کے لیے آمادہ کیا۔ اُن کے مطابق پاکستان نے تین نسلوں تک افغان قیادت اور عوام کی مہمان نوازی کی، مگر اس کا صلہ یہ ملا کہ پاکستان مخالف عناصر کو افغان سرزمین پر پناہ دی گئی۔
حقانی صاحب! اپنے نام کی ہی لاج رکھ لیں اور ہمارے دشمن کا کردار ادا نہ کریں؛ خواجہ آصف کا سراج الدین حقانی کو دوٹوک پیغام

واضح رہے کہ اس سے قبل سراج الدین حقانی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ماضی میں افغانوں کے اہداف مختلف تھے، تاہم اب تمام افغان ایک آواز ہو کر پاکستان کے خلاف لڑنے کے لیے تیار ہیں۔

February 28, 2026

وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغان طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں سوویت یونین کے خلاف جنگ کے دوران پاکستان دل و جان سے افغان مجاہدین کے ساتھ کھڑا رہا، مگر آج صورتحال بدل چکی ہے اور پاکستان کو بدلے میں تلخ تجربات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

خواجہ آصف نے اپنے بیان میں کہا کہ سوویت دور میں حقانی خاندان سمیت لاکھوں افغان مہاجرین کو پاکستان نے پناہ دی، دہائیوں تک ان کی میزبانی کی اور ہر ممکن تعاون فراہم کیا۔ اُن کے بقول پاکستان اور افغان قیادت کا اُس وقت ایک ہی ہدف تھا، جو عالمی طاقتوں کی پالیسیوں کے تحت طے پایا تھا۔

انہوں نے کہا کہ 9/11 کے بعد پاکستان نے نیٹو افواج کے ساتھ بطور سہولت کار کردار ادا کیا، تاہم امریکہ کی جانب سے پاکستان پر حقانی نیٹ ورک کی معاونت کا الزام بھی عائد کیا جاتا رہا۔ “ہم سے آپ کا پتہ پوچھا جاتا تھا، آج آپ ہی دنیا کو بتا دیں کہ یہ الزامات سچ تھے یا جھوٹ؟” وزیر دفاع نے سوال اٹھایا۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ 1979 سے 9/11 تک کے عرصے میں افغانستان کے مختلف دھڑوں کے درمیان خانہ جنگی جاری رہی، جس میں پاکستان نے بارہا ثالثی کا کردار ادا کیا اور فریقین کو صلح کے لیے آمادہ کیا۔ اُن کے مطابق پاکستان نے تین نسلوں تک افغان قیادت اور عوام کی مہمان نوازی کی، مگر اس کا صلہ یہ ملا کہ پاکستان مخالف عناصر کو افغان سرزمین پر پناہ دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ کابل میں اپنی ملاقات کے دوران انہوں نے سراج الدین حقانی سے درخواست کی تھی کہ پاکستان دشمن گروہوں کی اعانت نہ کی جائے۔ “ہم مالی تعاون تک دینے کو تیار تھے، مگر کوئی واضح ضمانت نہیں تھی کہ ہماری سرزمین کے خلاف سرگرمیاں بند ہوں گی،” انہوں نے کہا۔

وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ حقانی نام ایک بزرگ شخصیت سے منسوب ہے اور اس نسبت کا احترام کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے افغان قیادت سے مطالبہ کیا کہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل سراج الدین حقانی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ماضی میں افغانوں کے اہداف مختلف تھے، تاہم اب تمام افغان ایک آواز ہو کر پاکستان کے خلاف لڑنے کے لیے تیار ہیں۔

متعلقہ مضامین

کیا افغانستان واقعی کبھی فتح نہیں ہوا؟ ایچ ٹی این کی اس خصوصی رپورٹ میں سکندرِ اعظم، چنگیز خان اور بابر سمیت ان تمام فاتحین کا ذکر ہے جنہوں نے اس خطے کو مسخر کیا

February 28, 2026

حکومتِ افغانستان نے پاکستان کے انتباہ کے بعد شہریوں کو پرسکون رہنے، غیر ضروری سفر سے بچنے اور سیکیورٹی حکام سے تعاون کی ہدایت جاری کر دی ہے

February 28, 2026

​اس پورے منظر نامے کا سب سے خوفناک پہلو ہمارا ازلی دشمن انڈیا ہے۔ انڈیا کبھی نہیں چاہے گا کہ دو ایسے ممالک، جن کا کلمہ، مذہب، ثقافت، لباس اور زبان ایک ہو، کبھی ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوں۔ نئی دہلی کے لیے افغانستان صرف ایک پڑوسی نہیں بلکہ پاکستان کی کمر میں چھرا گھونپنے کا ایک “سیکنڈ فرنٹ” ہے۔

February 28, 2026

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے دعویٰ کیا ہے کہ ‘آپریشن غصب الحق’ کے دوران 331 افغان طالبان ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہوئے ہیں

February 28, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *