وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغان طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں سوویت یونین کے خلاف جنگ کے دوران پاکستان دل و جان سے افغان مجاہدین کے ساتھ کھڑا رہا، مگر آج صورتحال بدل چکی ہے اور پاکستان کو بدلے میں تلخ تجربات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
خواجہ آصف نے اپنے بیان میں کہا کہ سوویت دور میں حقانی خاندان سمیت لاکھوں افغان مہاجرین کو پاکستان نے پناہ دی، دہائیوں تک ان کی میزبانی کی اور ہر ممکن تعاون فراہم کیا۔ اُن کے بقول پاکستان اور افغان قیادت کا اُس وقت ایک ہی ہدف تھا، جو عالمی طاقتوں کی پالیسیوں کے تحت طے پایا تھا۔
انہوں نے کہا کہ 9/11 کے بعد پاکستان نے نیٹو افواج کے ساتھ بطور سہولت کار کردار ادا کیا، تاہم امریکہ کی جانب سے پاکستان پر حقانی نیٹ ورک کی معاونت کا الزام بھی عائد کیا جاتا رہا۔ “ہم سے آپ کا پتہ پوچھا جاتا تھا، آج آپ ہی دنیا کو بتا دیں کہ یہ الزامات سچ تھے یا جھوٹ؟” وزیر دفاع نے سوال اٹھایا۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ 1979 سے 9/11 تک کے عرصے میں افغانستان کے مختلف دھڑوں کے درمیان خانہ جنگی جاری رہی، جس میں پاکستان نے بارہا ثالثی کا کردار ادا کیا اور فریقین کو صلح کے لیے آمادہ کیا۔ اُن کے مطابق پاکستان نے تین نسلوں تک افغان قیادت اور عوام کی مہمان نوازی کی، مگر اس کا صلہ یہ ملا کہ پاکستان مخالف عناصر کو افغان سرزمین پر پناہ دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ کابل میں اپنی ملاقات کے دوران انہوں نے سراج الدین حقانی سے درخواست کی تھی کہ پاکستان دشمن گروہوں کی اعانت نہ کی جائے۔ “ہم مالی تعاون تک دینے کو تیار تھے، مگر کوئی واضح ضمانت نہیں تھی کہ ہماری سرزمین کے خلاف سرگرمیاں بند ہوں گی،” انہوں نے کہا۔
وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ حقانی نام ایک بزرگ شخصیت سے منسوب ہے اور اس نسبت کا احترام کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے افغان قیادت سے مطالبہ کیا کہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل سراج الدین حقانی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ماضی میں افغانوں کے اہداف مختلف تھے، تاہم اب تمام افغان ایک آواز ہو کر پاکستان کے خلاف لڑنے کے لیے تیار ہیں۔