قومی پیغامِ امن کمیٹی نے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے ایک جامع اور کثیر الجہتی حکمت عملی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ صوبے میں سکیورٹی کامیابیوں کو مستقل بنانے کے لیے مذہبی ہم آہنگی، مؤثر حکمرانی اور انتہاء پسندانہ نظریات کا بیانیاتی سطح پر خاتمہ بنیادی شرط ہے۔
گزشتہ روز کوئٹہ میں منعقدہ ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ طاہر اشرفی اور مفتی عبدالرحیم سمیت تمام مکاتبِ فکر کے جید علماء اور اقلیتی رہنماؤں نے ریاستِ پاکستان اور اس کے آئینی ڈھانچے کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے اس امر کی جانب توجہ دلائی ہے کہ بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کا راستہ صرف اور صرف امن سے ہو کر گزرتا ہے، جس کے لیے معتدل مذہبی بیانیہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔
سیکیورٹی اقدامات اور عوامی اعتماد
این پی اے سی کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز کی قربانیوں سے حاصل ہونے والے امن کو برقرار رکھنے کے لیے عوامی اعتماد کی بحالی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک انتہاپسندانہ راستے مسدود نہیں کیے جاتے اور عوام کو ریاستی بیانیے میں شامل نہیں کیا جاتا تب تک عسکریت پسندی کا خاتمہ ناممکن ہے۔ مذہبی و سماجی رہنماء سکیورٹی واقعات کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں، کیونکہ وہ براہِ راست عوامی جذبات سے جڑے ہوتے ہیں۔
‘فتنہ الخوارج’ اور علاقائی صورتحال
پریس کانفرنس میں ‘فتنہ الخوارج’ کے بڑھتے ہوئے خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ علماء نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ہم فتنہ الخوارج کے خلاف اپنی مسلح افواج کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ اس موقع پر افغانستان پر بھی زور دیا گیا کہ وہ اپنی سرزمین سے آپریٹ کرنے والے ان عناصر کی کسی بھی شکل میں حمایت سے گریز کرے، کیونکہ پڑوسی ممالک کی مداخلت خطے کے امن کو داؤ پر لگا رہی ہے۔
غزہ، ایران اور قومی اثاثوں کا تحفظ
قومی پیغامِ امن کمیٹی نے غزہ اور ایران کے مسلمانوں کے ساتھ بھی مکمل اظہارِ یکجہتی کیا۔ رہنماؤں نے ایران پر ہونے والے کسی بھی حملے کی سخت مذمت کی، تاہم انہوں نے دوٹوک مؤقف اپنایا کہ بین الاقوامی تنازعات یا احتجاج کی آڑ میں پاکستان کے قومی اثاثوں کو نقصان پہنچانا کسی صورت درست نہیں۔ ریاست اور اس کے قانونی فیصلوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔
اقلیتوں کا کردار اور ثقافتی تنوع
پریس کانفرنس میں پاکستان کی اقلیتوں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ملک کے دیگر طبقات کے ساتھ مل کر قومی استحکام کے لیے متحد ہیں۔ کمیٹی نے قرار دیا کہ بلوچستان کا ثقافتی تنوع ہمارا حسن ہے اور ایک معتدل مذہبی بیانیہ اس تنوع کا احترام کرتے ہوئے قومی یکجہتی کو مزید فروغ دے سکتا ہے۔ آخر میں فرنٹیئر کور، پاک فوج اور بلوچستان کے غیور عوام کا شکریہ ادا کیا گیا جو دہشت گردی کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے ہوئے ہیں۔