غزہ میں اسرائیلی جنگی طیاروں کی بمباری اور فائرنگ سے 3 بچوں سمیت 4 فلسطینی شہید ہوگئے۔

September 1, 2026

افغان سفیر سردار احمد شکیب نے پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو تسلیم کر لیا، تاہم افغان سرزمین پر فوجی کارروائی کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

September 1, 2026

یکم ستمبر 1965 کا آپریشن گرینڈ سلیم اور پاک فضائیہ کا فضائی حملہ جنگِ ستمبر کا موڑ ثابت ہوا، جس نے بھارتی عسکری قیادت کو بوکھلا کر جنگ عالمی سرحدوں تک پھیلانے پر مجبور کر دیا۔

September 1, 2026

زیارت کراس کسٹمز چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا، فائرنگ کے تبادلے میں 10 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔

September 1, 2026

شہباز شریف نے مودی کی موجودگی میں پانی کو سیاسی دباؤ یا بطور ہتھیار استعمال کرنے کو ناقابل قبول قرار دے دیا۔

September 1, 2026

ٹرمپ نے اردن میں امریکی فوجی اڈے پر حملے کے جواب میں ایران کے خلاف انتہائی سخت کارروائی کی دھمکی دے دی۔

September 1, 2026

مودی اور نیتن یاہو کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ؛ ایران کے خلاف ‘یہود و ہنود’ گٹھ جوڑ پر عوامی تشویش

نریندر مودی اور نیتن یاہو کے حالیہ رابطے نے ایران اور مسلم ممالک کے خلاف بھارتی اور اسرائیلی گٹھ جوڑ کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے
نریندر مودی اور نیتن یاہو کے حالیہ رابطے نے ایران اور مسلم ممالک کے خلاف بھارتی اور اسرائیلی گٹھ جوڑ کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے

بھارتی وزیراعظم مودی اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ۔ سوشل میڈیا پر 'یہود و ہنود' گٹھ جوڑ اور ایران کے خلاف سازشوں پر شدید عوامی ردِعمل

March 2, 2026

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور نیتن یاہو کے درمیان ہونے والے حالیہ ٹیلیفونک رابطے نے خطے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اگرچہ سرکاری طور پر تو اس رابطے کا مقصد شہریوں کے تحفظ اور جنگ بندی کی ضرورت پر تبادلہ خیال بتایا گیا ہے، تاہم سیاسی مبصرین اور سوشل میڈیا صارفین اسے ایران اور مسلم ممالک کے خلاف ایک گہرے ‘یہود و ہنود’ گٹھ جوڑ کے تسلسل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ رابطہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطہ انتہائی کشیدہ صورتحال سے گزر رہا ہے اور دونوں ممالک کے عزائم مسلم دنیا کے مفادات کے ٹکراؤ میں نظر آتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر جاری بحث میں صارفین کا مؤقف ہے کہ مودی اور نیتن یاہو کی یہ قربت درحقیقت ایران کی موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی ایک منظم کوشش ہے۔ ایک جانب جہاں ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو غیر معمولی طاقت سے نشانہ بنانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں، وہیں مودی کا نیتن یاہو کے ساتھ کھڑا ہونا بھارت کے ان دعوؤں کی نفی کرتا ہے جن میں وہ ایران کو اپنا ‘دوست ملک’ قرار دیتا رہا ہے۔

عوامی حلقوں میں یہ بیانیہ زور پکڑ رہا ہے کہ بھارت اپنے اصل عزائم چھپانے میں ناکام رہا ہے اور وہ اسرائیل کے ساتھ مل کر خطے میں مسلمانوں کے خلاف صف آراء ہے۔

ماہرینِ خارجہ امور کے مطابق بھارت اور اسرائیل کا یہ بڑھتا ہوا اشتراک نہ صرف ایران بلکہ پاکستان کے لیے بھی ہائبرڈ وار فیئر اور سائبر جارحیت کے خطرات کو جنم دے رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے اس دوستی کو ‘دوست نما دشمنی’ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ گٹھ جوڑ خطے کی تباہی اور مسلم ممالک کو کمزور کرنے کا ایجنڈا رکھتا ہے۔

مودی اور نیتن یاہو کے اس رابطے کو عالمی سطح پر ہونے والی ان تبدیلیوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے جو مستقبل میں مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے سیاسی نقشے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔

دیکھیے: ایران پر حملہ؛ کون کیا چاہتا، کہاں کھڑا ہے؟

متعلقہ مضامین

غزہ میں اسرائیلی جنگی طیاروں کی بمباری اور فائرنگ سے 3 بچوں سمیت 4 فلسطینی شہید ہوگئے۔

September 1, 2026

افغان سفیر سردار احمد شکیب نے پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو تسلیم کر لیا، تاہم افغان سرزمین پر فوجی کارروائی کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

September 1, 2026

یکم ستمبر 1965 کا آپریشن گرینڈ سلیم اور پاک فضائیہ کا فضائی حملہ جنگِ ستمبر کا موڑ ثابت ہوا، جس نے بھارتی عسکری قیادت کو بوکھلا کر جنگ عالمی سرحدوں تک پھیلانے پر مجبور کر دیا۔

September 1, 2026

زیارت کراس کسٹمز چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا، فائرنگ کے تبادلے میں 10 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔

September 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *