مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر بارود کے ڈھیر پر کھڑا ہے۔ 28 فروری 2026ء کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد شروع ہونے والی عسکری کشیدگی اب براہِ راست جوابی کارروائیوں میں تبدیل ہو چکی ہے۔ خلیجی ریاستوں میں میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت میں تقریباً 70 فیصد کمی رپورٹ کی جا رہی ہے۔ یہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں، بلکہ عالمی توانائی رسد کی شہ رگ پر دباؤ ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق یہ کارروائیاں چار سے پانچ ہفتے جاری رہ سکتی ہیں۔ دوسری جانب ایرانی جوابی حملوں کے نتیجے میں قطر، متحدہ عرب امارات، کویت اور سعودی عرب کے ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور توانائی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اگر یہ صورتحال طول پکڑتی ہے تو اس کے اثرات عالمی تجارت، صنعت، ٹرانسپورٹ اور مالیاتی منڈیوں پر دور رس ہوں گے۔
آبنائے ہرمز: دنیا کی توانائی کی شہ رگ
عالمی توانائی ایجنسی کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے۔ ایشیا کی بڑی معیشتیں اسی سمندری راستے پر انحصار کرتی ہیں۔ اگر یہ راہداری جزوی طور پر بھی متاثر ہوتی ہے تو اثرات صرف خلیج تک محدود نہیں رہتے، بلکہ دہلی، کراچی اور ڈھاکہ کے بازار بھی اس کی زد میں آ جاتے ہیں۔
عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 82 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے، اور اگر ہرمز میں رکاوٹ برقرار رہی تو یہ قیمت 100 ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے۔ تاریخ ہمیں خبردار کرتی ہے: 1973ء کے اوپیک تیل بائیکاٹ نے قیمتوں کو 3 ڈالر سے بڑھا کر 12 ڈالر تک پہنچا دیا تھا، جس سے مغربی دنیا کساد بازاری کی لپیٹ میں آ گئی۔ 1979ء کے ایرانی انقلاب کے بعد قیمتیں 39 ڈالر تک جا پہنچیں۔ آج کا منظرنامہ انہی تاریخی جھٹکوں کی بازگشت معلوم ہوتا ہے۔
عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ اگر تیل کی قیمت 100 ڈالر کے قریب مستحکم رہتی ہے تو ترقی پذیر ممالک میں افراطِ زر کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔ جنگ کا تجربہ طاقتور ریاستیں کرتی ہیں، مگر اس کی تپش کمزور معیشتوں کے باورچی خانوں میں محسوس کی جاتی ہے۔
جنوبی ایشیا: درآمدی انحصار اور مہنگائی کا دباؤ
ایشین ڈیولپمنٹ بینک کے مطابق جنوبی ایشیا کی 60 سے 80 فیصد توانائی درآمدات خلیجی خطے سے آتی ہیں۔ بھارت اپنی تقریباً 80 فیصد ایل این جی درآمدات ہرمز کے ذریعے حاصل کرتا ہے، جبکہ پاکستان کی خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات کی بڑی مقدار بھی اسی راستے سے آتی ہے۔
اگر تیل کی قیمت میں ہر 10 ڈالر اضافہ ہو تو پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں 0.5 سے 0.6 فیصد تک اضافہ ممکن ہے۔ ماضی کے تجزیات ظاہر کرتے ہیں کہ توانائی کی قیمتیں براہِ راست کرنٹ اکاؤنٹ خسارے، روپے کی قدر اور زرمبادلہ ذخائر کو متاثر کرتی ہیں۔ پہلے ہی محدود مالی گنجائش کے حامل ملک کے لیے یہ جھٹکا آئی ایم ایف پروگرام پر عمل درآمد کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
پاکستان: بحالی کی کوششوں پر نیا بوجھ
پاکستان گزشتہ برس آئی ایم ایف پروگرام کے ذریعے معاشی استحکام کی جانب واپسی کی کوشش کر رہا تھا۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ قابو میں آ رہا تھا، روپے کی قدر نسبتاً مستحکم تھی، اور زرمبادلہ ذخائر میں بہتری کے آثار نمایاں ہو رہے تھے۔ مگر تیل کی قیمت میں ہر 10 ڈالر اضافے سے درآمدی بل اربوں ڈالر بڑھ سکتا ہے۔
گزشتہ مالی سال میں پاکستان کو تقریباً 41 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر موصول ہوئیں، جن کی بڑی مقدار خلیجی ممالک سے آئی۔ اگر خلیجی معیشتیں عدم استحکام کا شکار ہوئیں یا انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا تو ترسیلات میں کمی کا خدشہ بھی پیدا ہو سکتا ہے، جو ڈالر فلو کے لیے سنگین خطرہ ہوگا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا کے ایس ای-100 انڈیکس پہلے ہی عالمی غیر یقینی صورتحال کے باعث دباؤ میں ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ صنعتی لاگت بڑھا کر برآمدی مسابقت کو متاثر کرے گا، خصوصاً ٹیکسٹائل شعبہ جو پہلے ہی بلند پیداواری لاگت کا سامنا کر رہا ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے عندیہ دیا ہے کہ اگر توانائی کی قیمتیں بلند رہیں تو عالمی شرح نمو میں 0.3 سے 0.5 فیصد کمی آ سکتی ہے۔ شپنگ انشورنس مہنگی ہو رہی ہے، جہاز افریقہ کے طویل راستوں سے گزرنے پر مجبور ہیں، اور سپلائی چین دباؤ کا شکار ہے۔ یہ تمام عوامل مل کر ’اسٹیگ فلیشن‘ یعنی سست معاشی ترقی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خطرات کو جنم دے سکتے ہیں۔
پاکستان کے لیے ممکنہ حکمتِ عملی
حکومتِ پاکستان نے ہنگامی اقدامات شروع کیے ہیں۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی کمیٹیاں روزانہ صورتحال کا جائزہ لے رہی ہیں۔ پاکستان اسٹیٹ آئل نے ہنگامی بنیادوں پر 140 ملین لیٹر پیٹرول درآمد کرنے کے معاہدے کیے ہیں۔ سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن اور متحدہ عرب امارات کی ابوظہبی پائپ لائن کے ذریعے متبادل سپلائی راستوں کے امکانات بھی تلاش کیے جا رہے ہیں۔
تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ اقدامات کافی ہوں گے؟ یا ہمیں اس بحران کو توانائی اصلاحات، متبادل ذرائع، مقامی پیداوار اور مالیاتی نظم و ضبط کی جانب سنجیدہ پیش رفت کے موقع کے طور پر لینا ہوگا؟
بحران یا بہتری کا موقع؟
ہر بحران اپنے ساتھ ایک آئینہ بھی لاتا ہے جس میں ریاستیں اپنی کمزوریاں دیکھ سکتی ہیں۔ ممکن ہے کہ چند ہفتوں میں میزائل خاموش ہو جائیں اور جہاز دوبارہ رواں دواں ہو جائیں، مگر معاشی ارتعاش برسوں تک معیشت کی بنیادوں میں گونجتا رہتا ہے۔
کیا اس بار بھی پاکستانی عوام کو آئے روز بڑھتی ہوئی پیٹرول قیمتوں کے اعلانات کا سامنا کرنا پڑے گا؟
کیا سنجیدہ اور بروقت اصلاحات دیکھنے کو ملیں گی؟
کیا ہم ایک بار پھر بحران کا شکار بنیں گے یا اس سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو جائیں گے؟
ان تمام سوالات کے جوابات حکومت کی بروقت، دور اندیش اور جراتمندانہ معاشی پالیسیوں میں پوشیدہ ہیں۔ اگر دانشمندانہ فیصلے کیے گئے تو یہ بحران بہتری کا موقع بن سکتا ہے؛ بصورتِ دیگر یہ ایک اور معاشی جھٹکا ثابت ہوگا جس کی قیمت عام شہری ادا کرے گا۔