اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان ہر قسم کی سفارتی معاونت اور ثالثی کے لیے تیار ہے، اور اگر فریقین چاہیں تو اسلام آباد مذاکرات کی میزبانی بھی کر سکتا ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ برس امریکہ ایران کشیدگی کے پہلے مرحلے کے بعد اسلام آباد کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے لیے ایک سنجیدہ اور مشترکہ آپشن کے طور پر زیرِ غور لایا گیا تھا۔
انہوں نے کہا، “ہم ہر قسم کی معاونت کے لیے تیار ہیں۔ اگر دونوں فریق اسلام آباد میں بات چیت چاہتے ہیں تو ہم تیار ہیں۔ ہم کسی بھی وقت ہر نوعیت کی ثالثی کے لیے آمادہ ہیں۔” ان کے مطابق امریکا–ایران کشیدگی کے ابتدائی مرحلے کے بعد پاکستان کو بات چیت کے لیے ایک ممکنہ دارالحکومت کے طور پر دونوں جانب سے سنجیدگی سے دیکھا گیا۔
سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ، ایران کو آگاہ کیا
وزیرِ خارجہ نے ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ موجود ہے، جس سے ایرانی قیادت کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق ایرانی فریق کی جانب سے یہ یقین دہانی طلب کی گئی کہ سعودی سرزمین کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہ ہو۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ اس سلسلے میں پاکستان نے “شٹل کمیونیکیشن” کا کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں کشیدگی میں کسی حد تک کمی آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حالیہ حملوں کے اعداد و شمار کا تقابل کیا جائے تو ایران کی جانب سے سعودی عرب اور عمان کے خلاف نسبتاً کم کارروائیاں ہوئیں، جو سفارتی رابطوں کے اثرات کی عکاسی کرتی ہیں۔
اسلام آباد کا سفارتی کردار
پاکستانی وزیرِ خارجہ کے مطابق اسلام آباد خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے فروغ کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان خطے میں استحکام کا خواہاں ہے اور کسی بھی ممکنہ تصادم کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی حمایت کرتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں طاقت کے توازن اور سفارتی صف بندیوں پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ اسلام آباد کی جانب سے ثالثی کی پیشکش اور دفاعی معاہدوں کی وضاحت خطے میں پاکستان کے توازن پر مبنی مؤقف کو ظاہر کرتی ہے۔
وزیرِ خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان کا مقصد کسی ایک فریق کی حمایت نہیں بلکہ علاقائی امن و استحکام کو فروغ دینا ہے، اور اگر مستقبل میں مذاکرات کا کوئی باضابطہ عمل شروع ہوتا ہے تو پاکستان اس میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہوگا۔