پاکستان اور افغانستان کے مابین حالیہ ایام میں رونما ہونے والے سرحدی واقعات اور اس تناظر میں یوناما کی رپورٹ نے ایک بار پھر عالمی اداروں کی غیر جانبداری کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ ماہرین دفاعی اُمور کا اس رپورٹ کو “یک طرفہ قرار دے کر مسترد کرنا اس تلخ حقیقت کا اظہار ہے کہ عالمی ادارے اکثر صورتحال کا ادراک اور زمینی حقائق کے بجائے مخصوص بیانیوں کی آبیاری میں مصروف ہو جاتے ہیں۔
یوناما کی رپورٹ کا اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ کسی معتبر عالمی ادارے کی دستاویز کے بجائے کسی غیر سرکاری تنظیم کا پروپیگنڈا معلوم ہوتی ہے۔ تعجب اس بات پر ہے کہ ایک طرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اپنی مانیٹرنگ ٹیمیں تسلیم کرتی ہیں کہ افغانستان کی سرزمین پر تحریک طالبان پاکستان کے ہزاروں جنگجو موجود ہیں اور انہیں وہاں کی عبوری حکومت کی سرپرستی حاصل ہے، تو دوسری طرف یوناما ان حقائق پر پردہ ڈال کر صرف پاکستانی دفاعی اقدامات کے انسانی اثرات کو اچھال رہا ہے۔ کیا عالمی ادارے یہ بتانا پسند کریں گے کہ ان دہشت گردوں کو جدید ترین امریکی اسلحہ اور محفوظ پناہ گاہیں کہاں سے میسر آ رہی ہیں؟ جب بین الاقوامی ادارے دہشت گردی کے بنیادی اسباب اور ان کے سہولت کاروں کا ذکر گول کر جاتے ہیں، تو ان کا کردار نہ صرف مشکوک ہو جاتا ہے بلکہ وہ بالواسطہ طور پر شدت پسند عناصر کے حوصلے بلند کرنے کا سبب بنتے ہیں۔
سلامتی کونسل کی رپورٹس اور تضادات
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اینالائٹیکل سپورٹ اور سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم کی حالیہ رپورٹس یوناما کے موجودہ بیانیے کی نفی کرتی نظر آتی ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جاری کردہ ’اینالائٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم‘ کی 33 ویں اور 34 ویں رپورٹس یوناما کے موجودہ بیانیے کی کھلی نفی کرتی ہیں۔ ان مستند دستاویزات میں صراحت کے ساتھ درج ہے کہ افغان حکومت کے زیرِ سایہ تحریک طالبان پاکستان کو نہ صرف محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں بلکہ وہ وہاں “ریاستی مہمان” کے طور پر مقیم ہیں۔
مانیٹرنگ رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی کے 6 ہزار سے زائد مسلح جنگجو افغانستان کے سرحدی صوبوں کنڑ، ننگرہار، خوست اور پکتیکا میں فعال تربیتی مراکز چلا رہے ہیں، جہاں انہیں القاعدہ کی جانب سے آپریشنل اور نظریاتی معاونت بھی حاصل ہے۔ رپورٹ میں اس تشویشناک حقیقت کا بھی اعتراف کیا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی کو افغان عبوری حکام کی جانب سے ماہانہ وظائف اور لاجسٹک سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جو پاکستان میں ہونے والے 600 سے زائد حالیہ حملوں کا بنیادی سبب ہیں۔ اقوام متحدہ کے اپنے ہی مانیٹرنگ نظام کے ان ٹھوس شواہد کو نظرانداز کر کے یوناما کا محض یک طرفہ انسانی ہمدردی کا راگ الاپنا، بین الاقوامی اداروں کے اندر موجود گہرے تضادات اور جانبداری کو بے نقاب کرتا ہے۔
دہشت گردی کے اثرات
پاکستان اس وقت جس صورتحال سے نبرد آزما ہے اس کے پیچھے سرحد پار سے ہونے والی مسلسل مداخلت ہے۔ گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2025 کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں 45 فیصد اضافہ اور ایک سال میں 1,081 اموات کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ ٹی ٹی پی کی جانب سے 52 فیصد حملوں کی ذمہ داری قبول کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک منظم جنگ جاری ہے۔ ان حملوں کے اثرات صرف جانی نقصان تک محدود نہیں؛ سرحد پار سے ہونے والی اس دراندازی نے پاکستان کے قبائلی اور سرحدی اضلاع میں معاشی سرگرمیوں کو مفلوج کر دیا ہے، ترقیاتی منصوبے التوا کا شکار ہیں اور تعلیمی و سماجی ڈھانچہ بکھر کر رہ گیا ہے۔ مقامی آبادی میں پھیلا ہوا عدم تحفظ کا احساس اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن حد تک جائے۔
دوٹوک مؤقف
دنیا کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ پاکستان نے گزشتہ چار دہائیوں سے 40 سے 60 لاکھ افغان مہاجرین کا بوجھ اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھایا ہوا ہے۔ انسانی ہمدردی کی ایسی مثال عالمی تاریخ میں شاذ و نادر ہی ملتی ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس احسان کے بدلے پاکستان کی سلامتی کو داؤ پر لگا دیا جائے۔ پاکستان کا یہ مؤقف نہایت واضح اور اصولی ہے کہ وہ اپنی سرحدوں کے اندر کسی بھی قسم کی دہشت گردی کو برداشت نہیں کرے گا۔ انٹیلی جنس بنیادوں پر کی جانے والی کاروائیاں کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ ان فتنہ پرور عناصر کے خلاف ہیں جو امن کے دشمن ہیں۔
بین الاقوامی اداروں بالخصوص یوناما کو چاہیے کہ وہ اپنی ساکھ کو بچانے کے لیے زمینی حقائق کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کرے۔ رپورٹنگ کا معیار صرف جذباتی اعداد و شمار نہیں بلکہ ان کے پیچھے چھپے اسباب کی نشاندہی ہونا چاہیے۔ اگر عالمی برادری خطے میں واقعی امن کی خواہاں ہے، تو اسے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی۔ پاکستان اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے اور جب تک سرحد پار سے ہونے والی یہ دہشت گردی بند نہیں ہوتی، ریاستِ پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے کسی بھی رعایت سے گریز نہیں کرے گی۔ اب وقت ہے کہ دنیا “ادھورے سچ” کے لبادے سے نکل کر پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرے اور دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرے۔