غیر مصدقہ اطلاعات میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ چند رہنما اپنے اہلِ خانہ سمیت نسبتاً محفوظ سمجھے جانے والے علاقوں کی جانب منتقل ہو گئے ہیں۔

March 4, 2026

آپریشن غضب للحق کے تازہ ترین معرکے میں افغان طالبان کو غیر معمولی جانی و مالی دھچکا لگا ہے؛ 4 مارچ کی شام تک 481 جنگجو ہلاک اور سینکڑوں چیک پوسٹیں تباہ ہو چکی ہیں

March 4, 2026

اس سے قبل اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں اتوار کے روز احمدی نژاد شہید ہوگئے ہیں۔

March 4, 2026

ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض علاقوں میں نوجوانوں کو خاندانوں کی رضامندی کے بغیر فرنٹ لائنز پر بھیجا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ملک کے شمالی علاقوں سے متعدد افراد کو سرحدی علاقوں کی جانب منتقل کیا گیا ہے۔ صوبہ تخار سے ایک ذریعے نے دعویٰ کیا ہے کہ جبری بھرتیوں میں طالبان ارکان اور عام شہریوں کے درمیان فرق نہیں رکھا جا رہا اور مقامی طالبان افسران کے ذریعے افراد کو کابل منتقل کر کے وہاں سے سرحدی محاذوں پر بھیجا جا رہا ہے۔

March 4, 2026

جس کا رزق اور جس کا جینا مرنا کسی اور کی مرضی کے تابع ہو، اس سے بے لاگ حق گوئی کی توقع مشکل ہوتی ہے۔ یہی پس منظر بھارتی مولانا سلمان حسینی ندوی کے بیانات اور ان کے طرزِ فکر پر بھی سوال اٹھاتا ہے

March 4, 2026

افغان طالبان کے ایک کمانڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر مالی امداد فراہم کی جائے تو وہ ایران کے خلاف زمینی فوجی کارروائی کے لیے تیار ہیں

March 4, 2026

پاکستان کے فضائی حملوں کے ڈر سے طالبان قیادت محفوظ مقامات پر منتقل، اسماعیل غزنوی نے خود کو جیل میں محصور کر لیا

غیر مصدقہ اطلاعات میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ چند رہنما اپنے اہلِ خانہ سمیت نسبتاً محفوظ سمجھے جانے والے علاقوں کی جانب منتقل ہو گئے ہیں۔
پاکستان کے فضائی حملوں کے ڈر سے طالبان قیادت محفوظ مقامات پر منتقل، اسماعیل غزنوی نے خود کو جیل میں محصور کر لیا

فیض آباد سے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ گورنر کا مؤقف ہے کہ جیل ایسی جگہ ہے جہاں حملے کا امکان کم سمجھا جاتا ہے۔

March 4, 2026

افغانستان میں حالیہ کشیدگی کے تناظر میں طالبان قیادت کے بارے میں مختلف دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بعض رہنما سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اپنی نقل و حرکت محدود کر چکے ہیں اور مواصلاتی ذرائع، بشمول موبائل فون اور واٹس ایپ، کا استعمال ترک کر دیا گیا ہے۔

غیر مصدقہ اطلاعات میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ چند رہنما اپنے اہلِ خانہ سمیت نسبتاً محفوظ سمجھے جانے والے علاقوں کی جانب منتقل ہو گئے ہیں۔

اسی سلسلے میں صوبہ بدخشاں کے گورنر مولوی اسماعیل غزنوی کے حوالے سے ایک غیر معمولی دعویٰ سامنے آیا ہے۔ مقامی ذریعے کے مطابق انہوں نے مبینہ فضائی حملوں کے خدشے کے پیش نظر فیض آباد جیل میں عارضی طور پر قیام اختیار کیا ہے اور گزشتہ چند راتیں وہیں گزار رہے ہیں۔

فیض آباد سے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ گورنر کا مؤقف ہے کہ جیل ایسی جگہ ہے جہاں حملے کا امکان کم سمجھا جاتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں اطلاعات تک رسائی محدود ہے، جس کے باعث مختلف دعوؤں کی تصدیق مشکل ہو گئی ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سیکیورٹی انتظامات میں تبدیلی اور رہنماؤں کی نقل و حرکت سے متعلق افواہیں گردش میں ہیں، تاہم سرکاری سطح پر خاموشی برقرار ہے۔

متعلقہ مضامین

آپریشن غضب للحق کے تازہ ترین معرکے میں افغان طالبان کو غیر معمولی جانی و مالی دھچکا لگا ہے؛ 4 مارچ کی شام تک 481 جنگجو ہلاک اور سینکڑوں چیک پوسٹیں تباہ ہو چکی ہیں

March 4, 2026

اس سے قبل اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں اتوار کے روز احمدی نژاد شہید ہوگئے ہیں۔

March 4, 2026

ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض علاقوں میں نوجوانوں کو خاندانوں کی رضامندی کے بغیر فرنٹ لائنز پر بھیجا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ملک کے شمالی علاقوں سے متعدد افراد کو سرحدی علاقوں کی جانب منتقل کیا گیا ہے۔ صوبہ تخار سے ایک ذریعے نے دعویٰ کیا ہے کہ جبری بھرتیوں میں طالبان ارکان اور عام شہریوں کے درمیان فرق نہیں رکھا جا رہا اور مقامی طالبان افسران کے ذریعے افراد کو کابل منتقل کر کے وہاں سے سرحدی محاذوں پر بھیجا جا رہا ہے۔

March 4, 2026

جس کا رزق اور جس کا جینا مرنا کسی اور کی مرضی کے تابع ہو، اس سے بے لاگ حق گوئی کی توقع مشکل ہوتی ہے۔ یہی پس منظر بھارتی مولانا سلمان حسینی ندوی کے بیانات اور ان کے طرزِ فکر پر بھی سوال اٹھاتا ہے

March 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *