افغانستان میں حالیہ کشیدگی کے تناظر میں طالبان قیادت کے بارے میں مختلف دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بعض رہنما سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اپنی نقل و حرکت محدود کر چکے ہیں اور مواصلاتی ذرائع، بشمول موبائل فون اور واٹس ایپ، کا استعمال ترک کر دیا گیا ہے۔
غیر مصدقہ اطلاعات میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ چند رہنما اپنے اہلِ خانہ سمیت نسبتاً محفوظ سمجھے جانے والے علاقوں کی جانب منتقل ہو گئے ہیں۔
اسی سلسلے میں صوبہ بدخشاں کے گورنر مولوی اسماعیل غزنوی کے حوالے سے ایک غیر معمولی دعویٰ سامنے آیا ہے۔ مقامی ذریعے کے مطابق انہوں نے مبینہ فضائی حملوں کے خدشے کے پیش نظر فیض آباد جیل میں عارضی طور پر قیام اختیار کیا ہے اور گزشتہ چند راتیں وہیں گزار رہے ہیں۔
فیض آباد سے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ گورنر کا مؤقف ہے کہ جیل ایسی جگہ ہے جہاں حملے کا امکان کم سمجھا جاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں اطلاعات تک رسائی محدود ہے، جس کے باعث مختلف دعوؤں کی تصدیق مشکل ہو گئی ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سیکیورٹی انتظامات میں تبدیلی اور رہنماؤں کی نقل و حرکت سے متعلق افواہیں گردش میں ہیں، تاہم سرکاری سطح پر خاموشی برقرار ہے۔