اقوام متحدہ کے خصوصی ماہرین نے افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے جسمانی سزاؤں کے بڑھتے ہوئے استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ماہرین نے کہا کہ طالبان دورِ حکومت میں جبر کو ریاستی پالیسی کی شکل دے دی گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق صرف 2025 کے دوران 1,100 سے زائد عوامی کوڑوں کی سزائیں ریکارڈ کی گئیں، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ جس استحکام کا دعویٰ کیا جا رہا ہے وہ دراصل بنیادی حقوق کی منظم نفی اور خوف کے ذریعے معاشرے کو کنٹرول کرنے کی حکمت عملی پر مبنی ہے۔
خواتین کی صورتحال پر تشویش
ماہرین نے کہا کہ افغانستان میں تقریباً 80 فیصد خواتین کو تعلیم، ملازمت اور فنی تربیت سے محروم کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق احکامات براہِ راست قندھار سے جاری کیے جا رہے ہیں، جہاں طالبان کے سربراہ ہبت اللہ اخوندزادہ مقیم ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ان احکامات کے نتیجے میں خواتین کو عوامی زندگی سے عملاً خارج کر دیا گیا ہے، ان کی نقل و حرکت محدود کی گئی ہے اور کم عمری و جبری شادیوں میں اضافہ ہوا ہے، جنہیں مذہبی ذمہ داری کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
عدالتی نظام پر سوالات
اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق موجودہ عدالتی ڈھانچہ آزادی، شفافیت اور منصفانہ قانونی عمل سے محروم ہے۔ حالیہ جاری کردہ فوجداری قوانین میں جسمانی سزاؤں اور سزائے موت کے دائرہ کار کو مزید وسعت دی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ قانون کو مرکزی کنٹرول کے آلے میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور اسے الٰہی حکم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے خوف اور دھمکی کا سہارا لیا جا رہا ہے۔
حکمرانی کا ماڈل یا جبر؟
ماہرین نے مزید کہا کہ طالبان عدالتوں کے طریقۂ کار اور نفاذی نظام میں کوڑوں کی سزا کو معمول بنایا جا رہا ہے اور اختیاری سزاؤں کو بڑھایا جا رہا ہے، جو اصلاح نہیں بلکہ واضح پسپائی ہے۔ بیان کے مطابق سنسرشپ اور خواتین کے خلاف پابندیاں براہِ راست اعلیٰ قیادت کے اختیار میں نافذ کی جا رہی ہیں۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے خبردار کیا کہ اندرونِ ملک خوف پر مبنی حکمرانی کے ساتھ ساتھ شدت پسند نیٹ ورکس کے لیے سازگار ماحول خطے کے امن و سلامتی کے لیے بھی خطرات کو بڑھا سکتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر مؤثر توجہ دی جائے اور بنیادی آزادیوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جائیں۔