بحرِ ہند میں بھارت اور سری لنکا کے ساحلی قریب ایک سنگین بحری تصادم کے نتیجے میں امریکی آبدوز نے ایرانی بحری جہاز کو نشانہ بنایا ہے، جس کے باعث 100 سے زائد افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایرانی جہاز بھارت میں منعقدہ انٹرنیشنل فلیٹ ریویو میں شرکت کے بعد واپس لوٹ رہا تھا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق امریکی آبدوز کے حملے کے نتیجے میں جہاز پر سوار کم از کم 100 افراد لاپتہ ہو گئے ہیں جن کے حوالے سے شدید خدشات پائے جاتے ہیں، جبکہ 78 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ مذکورہ کے فوری بعد سری لنکن بحریہ نے امدادی کاروائیوں کا آغاز کرتے ہوئے متاثرہ جہاز کو ریسکیو کر لیا اور زخمیوں کو طبی امداد کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے۔
ایسے میں اامریکہ کے سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگستھ کا کہنا ہے کہ بحرِ ہند میں ایک امریکی آبدوز نے ایران کا جنگی بحری جہاز ڈبو دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ منگل کو کیا گیا یہ تارپیڈو حملہ ایک خاموش موت جیسا تھا۔
ہیگستھ نے جہاز کا نام نہیں بتایا مگر یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنا آیا ہے کہ جب سری لنکن حکام نے بدھ کو اپنی سمندری حدود کے قریب ڈوبنے والے ایرانی جہاز آئی آر آئی ایس دینا سے 32 افراد کو ریسکیو کرنے کی تصدیق کی ہے۔ ان کے مطابق 80 لاشیں نکالی گئی ہیں۔
یہ واقعہ بھارت کے لیے ایک بڑی سفارتی شرمندگی کا باعث بن رہا ہے کیونکہ حملہ بھارتی سمندری حدود کے قریب اس وقت ہوا جب ایران ایک بین الاقوامی بحری مشق کے سلسلے میں بھارت کا مہمان تھا۔ بین الاقوامی ماہرین اس حملے کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سمندری سلامتی کے حوالے سے ایک خطرناک پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
ایران کی جانب سے تاحال اس واقعے پر باضابطہ شدید ردعمل کا انتظار ہے، تاہم اس حملے نے بحرِ ہند میں بڑی طاقتوں کے درمیان نئے تنازع کا پیش خیمہ فراہم کر دیا ہے۔
دیکھیے: سابق ایرانی صدر احمدی نژاد زندہ، عوام میں آگئے؛ ویڈیو منظر عام پر آ گئی