مددگار یا مکار؟ اپنوں کے ہاتھوں قتل کے لرزہ خیز واقعات

مددگار یا مکار؟

اپنوں کے لبادے میں چھپے قاتلوں اور خونی رشتوں کے پامال ہوتے تقدس پر ایک دردناک تحریر، جو مددگار چہروں کے پیچھے چھپے مکروہ اور سفاک کرداروں کو بے نقاب کرتی ہے۔

بھارتی فضائیہ کے دعوے اور زمینی حقائق کا تضاد

بھارتی فضائیہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو اعداد و شمار تشویشناک حد تک مایوس کن ہیں۔ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران 550 سے زائد فضائی حادثات اور 150 سے زائد پائلٹس کی ہلاکتیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بھارتی فضائیہ کا حفاظتی نظام ایک سنگین بحران کی لپیٹ میں ہے
بھارتی فضائیہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو اعداد و شمار تشویشناک حد تک مایوس کن ہیں۔ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران 550 سے زائد فضائی حادثات اور 150 سے زائد پائلٹس کی ہلاکتیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بھارتی فضائیہ کا حفاظتی نظام ایک سنگین بحران کی لپیٹ میں ہے

بھارتی فضائیہ کی کارکردگی اور حفاظت پر سنگین سوالات؛ حالیہ سخوئی طیارے کا حادثہ بھارتی دفاعی نظام کی ادارہ جاتی ناکامیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے

March 6, 2026

بھارتی ریاست آسام کے علاقے جورہاٹ سے روسی ساختہ سخوئی لڑاکا طیارے کا ریڈار سے اچانک غائب ہو جانا محض ایک تکنیکی حادثہ نہیں بلکہ یہ بھارتی دفاعی نظام کی ان گہری اور ادارہ جاتی کمزوریوں کا عکاس ہے جو طویل عرصے سے مخفی تھیں۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب نئی دہلی کی سیاسی و عسکری قیادت خطے میں جارحانہ بیانات، سرحدی کشیدگی اور علاقائی مداخلت کی سیاست میں مصروفِ عمل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو فضائیہ اپنے ہی طیاروں کو فضاؤں میں محفوظ رکھنے سے قاصر ہو، اس کے طاقتور ہونے کے دعوے صرف ایک “سفارتی بلبلے” کی حیثیت رکھتے ہیں۔

بھارتی فضائیہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو اعداد و شمار تشویشناک حد تک مایوس کن ہیں۔ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران 550 سے زائد فضائی حادثات اور 150 سے زائد پائلٹس کی ہلاکتیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بھارتی فضائیہ کا حفاظتی نظام ایک سنگین بحران کی لپیٹ میں ہے۔ میگ-21 جیسے طیاروں کو تو عالمی سطح پر “اڑتے ہوئے تابوت” کا نام دیا جا چکا تھا، لیکن اب ‘سخوئی’ اور ‘تیجس’ جیسے جدید کہلائے جانے والے طیاروں کا اس زمرے میں آنا یہ ثابت کرتا ہے کہ مسئلہ طیاروں کی ساخت کا نہیں، بلکہ دیکھ بھال اور دفاعی نضام کے ناقص ہونے کا ثبوت ہے۔

یہاں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ بھارت اپنی دفاعی اصلاحات پر توجہ دینے کے بجائے اپنی تمام تر توانائیاں علاقائی پراکسی سیاست اور ہمسایہ ممالک کے خلاف بیان بازی پر کیوں صرف کر رہا ہے؟ دفاعی خود انحصاری کے بلند بانگ دعوؤں کے باوجود ‘تیجس’ فلیٹ کا گراؤنڈ ہونا اور سول ایوی ایشن کا بحران جہاں نصف فضائی بیڑا تکنیکی خرابیوں کا شکار ہے اور پائلٹس و طیاروں کا تناسب عالمی معیار سے انتہائی نیچے گر چکا ہے۔ یہ سب ایک ایسی انتظامی ناکامی ہے جسے محض پروپیگنڈے سے چھپایا نہیں جا سکتا۔

تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو 2019 کا بالاکوٹ آپریشن ہو یا مئی 2025 کی فضائی جھڑپیں، بھارتی فضائیہ نے جنگی محاذ پر اپنی پیشہ ورانہ اہلیت کے حوالے سے دنیا کو مایوس کیا ہے۔ اپنے ہی ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنانا ہو یا مئی 2025 میں عالمی سطح پر ‘0-6’ کے شرمناک اعداد و شمار کا بوجھ اٹھانا، ان واقعات نے بھارتی دفاعی ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ یاد رہے کہ جنگیں پائلٹس کی جوانمردی، تربیت کے معیار، نظام اور بروقت فیصلہ سازی پر ہوتا ہے، جس کا فقدان بھارتی فضائیہ کے ہر محاذ پر دکھائی دیتا ہے۔

کسی بھی فضائی قوت کی طاقت کا اصل محور طیاروں کی جدیدیت نہیں، بلکہ اس کا انسانی اور تکنیکی ‘سپورٹ سسٹم’ ہوتا ہے۔ جب ایک ایئر فورس اپنے ہی اثاثوں کو نشانہ بنانے لگے تو یہ کسی بیرونی دشمن کے خلاف نہیں، بلکہ اپنے ہی ‘کمانڈ اینڈ کنٹرول’ کے نظام کی ناکامی کا ثبوت ہوتا ہے۔ بھارتی فضائیہ کو آج ناقص تربیت، کمزور دیکھ بھال اور سپلائی چین میں مسلسل تاخیر جیسے تین بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔

نئی دہلی کے لیے نوشتہِ دیوار پڑھنے کا وقت آ چکا ہے۔ ایک ذمہ دار طاقت بننے کے لیے اشتعال انگیز بیانات سے زیادہ داخلی دفاعی نظام کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ اگر بھارت نے اپنی فضائیہ کو واقعی ‘آپریشنل’ بنانا ہے تو اسے سیاسی مہم جوئی ترک کر کے اپنی سپلائی چین، تربیتی مراکز اور دیکھ بھال کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا۔ بصورتِ دیگر، یہ حادثات اور تکنیکی ناکامیاں اس کی ساکھ کو مزید کمزور کرتی رہیں گی۔

یاد رہے، اسکور بورڈ پر جیتنے والی ٹیمیں بہت ہوتی ہیں، مگر فضاؤں میں برتری صرف وہی لیتا ہے جس کی تربیت، حکمت عملی اور نظم مضبوط ہو۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جو ریاست اپنے طیاروں کو محفوظ نہیں رکھ سکتی، وہ فضائی برتری کے بلند بانگ دعوے زیادہ دیر تک برقرار نہیں رکھ سکتی۔

متعلقہ مضامین

افغانستان میں شدید غذائی قلت اور صحت کے نظام پر بڑھتے دباؤ پر اوچا نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکومت کی ترجیحات اور امدادی فنڈز کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

November 4, 2026

مکہ مکرمہ میں مسجد کے تقدس کی پامالی پر 2 بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی، جبکہ عدالتی تحقیقات کے ذریعے ملزمان کے حق میں پھیلائی جانے والی گمراہ کن افواہوں کو رد کر دیا گیا۔

November 4, 2026

طلبہ سیاست سے عسکریت پسندی تک کا سفر طے کرنے والے بشیر زیب کون ہیں، جنہیں کالعدم بی ایل اے نے سربراہی کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔

November 4, 2026

ٹرمپ نے ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو کچھ بڑا کرنا ہوگا۔

November 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *