حکومت نے خطے میں جاری کشیدگی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دیا ہے۔ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 55 روپے اضافہ کیا جا رہا ہے۔
اس فیصلے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 321 روپے 17 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت 335 روپے 86 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ حکومت کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات سے ہوگا۔
پریس کانفرنس کے دوران اسحاق ڈار نے کہا کہ خطے میں جاری جنگی صورتحال اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کے باعث حکومت کو یہ مشکل فیصلہ کرنا پڑا۔ ان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف خود صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں اور آج ان کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس بھی ہوا جس میں عالمی مارکیٹ کی صورتحال اور اس کے پاکستان پر اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اسحاق ڈار نے مزید بتایا کہ حکومت گزشتہ پانچ روز سے روزانہ کی بنیاد پر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور خطے کی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے سفارتی سطح پر بھی مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطے کیے ہیں تاکہ کشیدگی کم کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جا سکیں۔
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان اس وقت غیر معمولی حالات سے گزر رہا ہے اور پڑوسی خطوں میں پیدا ہونے والی صورتحال کے اثرات براہ راست پاکستان سمیت پورے خطے پر پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پیشگی حکمت عملی کے تحت ملک میں پیٹرولیم ذخائر میں اضافہ کیا تھا تاکہ کسی ممکنہ بحران کی صورت میں سپلائی برقرار رکھی جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ حکومت کے لیے ایک مشکل مگر ناگزیر فیصلہ تھا۔ تاہم حکومت اس بات کی کوشش کرے گی کہ جیسے ہی عالمی حالات بہتر ہوں اور تیل کی قیمتوں میں کمی آئے تو اسی تیزی کے ساتھ عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔ وزیر پیٹرولیم کے مطابق اب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا ہفتہ وار جائزہ لیا جائے گا تاکہ عالمی منڈی کے مطابق فوری فیصلے کیے جا سکیں۔