اسلام آباد: افغانستان کی صورتحال اور ایران و مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف نے آج تمام پارلیمانی رہنماؤں کو وزیراعظم ہاؤس مدعو کیا اور انہیں خطے کی بدلتی صورتحال پر جامع بریفنگ دینے کا فیصلہ کیا ۔ تاہم پاکستان تحریک انصاف نے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اجلاس کا مقصد پارلیمانی قیادت کو خطے میں پیدا ہونے والی نئی صورتحال، ممکنہ سفارتی اور سیکیورٹی اثرات اور حکومت کی حکمت عملی سے آگاہ کرنا تھا۔ وزیراعظم کی جانب سے مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین کو دعوت دی گئی تاکہ اہم قومی امور پر مشترکہ مشاورت ہو سکے۔
حکومتی مؤقف کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے اجلاس میں شرکت نہ کرنا قومی معاملات پر سیاسی اختلافات کو ترجیح دینے کے مترادف ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسے اہم مواقع پر قومی قیادت کا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا ضروری ہوتا ہے تاکہ خطے کی پیچیدہ صورتحال پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔
حکومتی حلقوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے دورِ حکومت میں کشمیر اور فلسطین جیسے معاملات پر بلائے گئے بعض اجلاسوں میں اپوزیشن قیادت شریک ہوئی تھی، تاہم بعض مواقع پر وزیراعظم عمران خان خود ان اجلاسوں میں شریک نہیں ہوئے تھے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت علاقائی صورتحال کے تناظر میں سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینے اور قومی سطح پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ خارجہ پالیسی اور سیکیورٹی امور پر مشترکہ مؤقف اختیار کیا جا سکے۔
دیکھئیے:صدر اردگان کا شہباز شریف سے ٹیلیفونک رابطہ؛ پاک افغان سیز فائر کیلئے تعاون کی پیشکش کر دی