پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے افغان طالبان پر کابل میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے پاکستان کے خلاف جنگی کاروائیاں کرنے کا الزام لگایا ہے، جبکہ طالبان نے طویل محاذ آرائی کی دھمکی دی ہے

March 9, 2026

نوجوانی میں وہ ایران عراق جنگ کے دوران مختصر مدت کے لیے فوجی خدمات بھی انجام دے چکے ہیں۔ بعد میں انہوں نے پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ قریبی روابط استوار کیے اور طویل عرصے تک اپنے والد کے قریبی حلقے میں ایک بااثر شخصیت کے طور پر کام کرتے رہے۔

March 9, 2026

موروثی ملامتیوں کی یہ بات اگر درست ہوتی کہ پاکستان کی فارن پالیسی غلامانہ ہے اور وہ امریکی دباؤ میں فیصلے کرتا ہے تو پاکستان آج ایٹمی طاقت نہ ہوتا ۔ پاکستان چین کے ساتھ سی پیک نہ کر رہا ہوتا۔ پاکستان اس خطے میں ہندتوا کے فاشزم کے سامنے نہ کھڑا ہوتا۔

March 9, 2026

سفارتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ کابل کے گرین زون میں ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود اور دیگر مطلوب عسکریت پسندوں کو پناہ دی جا رہی ہے، جس کے باعث غیر ملکی سفارت کار کابل چھوڑنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔

March 9, 2026

پاکستان اور ازبکستان کے درمیان اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے 2026 سے 2030 تک کا پانچ سالہ اسٹریٹجک روڈ میپ تیار کیا جائے گا

March 8, 2026

ذرائع کے مطابق بھارتی اور اسرائیلی حلقوں سے منسلک نیٹ ورک اجمل سہیل کو ’’سیکیورٹی تجزیہ کار‘‘ کے طور پر پیش کر رہا ہے تاکہ پاکستان مخالف بیانیہ تشکیل دیا جا سکے

March 8, 2026

کابل کے حساس علاقے میں ٹی ٹی پی قیادت کی پناہ گاہیں، عالمی برادری کے شدید تحفظات

سفارتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ کابل کے گرین زون میں ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود اور دیگر مطلوب عسکریت پسندوں کو پناہ دی جا رہی ہے، جس کے باعث غیر ملکی سفارت کار کابل چھوڑنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
سفارتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ کابل کے گرین زون میں ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود اور دیگر مطلوب عسکریت پسندوں کو پناہ دی جا رہی ہے، جس کے باعث غیر ملکی سفارت کار کابل چھوڑنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔

کابل کے حساس ترین علاقے گرین زون میں ٹی ٹی پی سربراہ اور دیگر عسکریت پسندوں کی موجودگی کے انکشاف نے سفارتی حلقوں اور عالمی تنظیموں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے

March 9, 2026

حامد میر کی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ مفتی نور ولی محسود، حافظ گل بہادر، بشیر زیب اور وسطی ایشیائی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے دیگر مطلوب عسکریت پسندوں کو کابل کے انتہائی حساس علاقے ‘گرین زون’ میں پناہ دی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق ان مطلوبہ افراد کی وزیر اکبر خان سمیت گرین زون کے دیگر علاقوں میں موجودگی، جہاں غیر ملکی سفارت کاروں کی رہائش گاہیں واقع ہیں، شدید سیکیورٹی خدشات کا باعث بن رہی ہے۔ ان ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سفارتی مشن کے قریب بین الاقوامی سطح پر مطلوب دہشت گردوں کی موجودگی کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ کئی ممالک کے سفارت کاروں نے کابل چھوڑنے پر غور شروع کر دیا ہے اور وہ جلد وہاں سے روانہ ہو سکتے ہیں۔

کابل میں موجود اقوام متحدہ کے عملے اور بعض بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) نے بھی اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان اداروں کا مؤقف ہے کہ عالمی سطح پر دہشت گرد قرار دیے گئے افراد کی یہاں موجودگی کسی صورت قبول نہیں کی جا سکتی۔ اطلاعات کے مطابق ان عالمی اداروں اور سفارتی حلقوں نے اس حوالے سے طالبان انتظامیہ کے پاس اپنے باضابطہ تحفظات بھی درج کروا دیے ہیں۔

دیکھیے: ایران۔اسرائیل جنگ: مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سیاست اور پاکستان کے لیے مضمرات

متعلقہ مضامین

پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے افغان طالبان پر کابل میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے پاکستان کے خلاف جنگی کاروائیاں کرنے کا الزام لگایا ہے، جبکہ طالبان نے طویل محاذ آرائی کی دھمکی دی ہے

March 9, 2026

نوجوانی میں وہ ایران عراق جنگ کے دوران مختصر مدت کے لیے فوجی خدمات بھی انجام دے چکے ہیں۔ بعد میں انہوں نے پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ قریبی روابط استوار کیے اور طویل عرصے تک اپنے والد کے قریبی حلقے میں ایک بااثر شخصیت کے طور پر کام کرتے رہے۔

March 9, 2026

موروثی ملامتیوں کی یہ بات اگر درست ہوتی کہ پاکستان کی فارن پالیسی غلامانہ ہے اور وہ امریکی دباؤ میں فیصلے کرتا ہے تو پاکستان آج ایٹمی طاقت نہ ہوتا ۔ پاکستان چین کے ساتھ سی پیک نہ کر رہا ہوتا۔ پاکستان اس خطے میں ہندتوا کے فاشزم کے سامنے نہ کھڑا ہوتا۔

March 9, 2026

پاکستان اور ازبکستان کے درمیان اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے 2026 سے 2030 تک کا پانچ سالہ اسٹریٹجک روڈ میپ تیار کیا جائے گا

March 8, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *