پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے انکشاف کیا ہے کہ سال 2022 سے اب تک ملک میں دہشت گردی کے مختلف واقعات کے نتیجے میں سیکیورٹی اہلکاروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ارکان اور عام شہریوں سمیت مجموعی طور پر 4,317 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
منگل کے روز پارلیمان کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سرگرم دہشت گردی کے تانے بانے اور اس کی جڑیں پڑوسی ملک افغانستان سے جڑی ہوئی ہیں۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے پاکستانی عسکریت پسندوں کی سرحد سے دور آبادکاری کے لیے 10 ارب روپے کی رقم کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
پاکستان یہ رقم فراہم کرنے کے لیے اصولی طور پر تیار تھا، تاہم یہ اہم سوال بدستور برقرار رہا کہ اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ یہ مسلح عناصر دوبارہ سرحدی علاقوں میں واپس نہیں آئیں گے۔
خواجہ محمد آصف نے ملکی خارجہ پالیسی کے تاریخی پس منظر پر گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ پاکستان 1980 کی دہائی میں اور بعد ازاں سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں امریکہ کی پراکسی کے طور پر کام کرتا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو حلقے افغانستان میں امن کے لیے وہاں جرگہ بھیجنے کی تجویز پیش کر رہے ہیں، حکومت اس تجویز کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے؛ تاہم اس جرگے کو خالی ہاتھ واپس نہیں آنا چاہیے، بلکہ افغان طالبان کی قیادت سے عسکریت پسندی کے خاتمے اور سرحدی سلامتی کے حوالے سے واضح اور ٹھوس یقین دہانیاں حاصل کرنی چاہئیں۔
دیکھیے: تیراہ سے اورکزئی میں داخلے کی کوشش ناکام، شدت پسند سہولت کار سمیت گرفتار