پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے افغان طالبان پر کابل میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے پاکستان کے خلاف مسلسل ‘جنگ’ جاری رکھنے کا الزام عائد کیا ہے۔ یہ بیان طالبان کے وزیرِ دفاع ملامحمد یعقوب مجاہد کے اس حالیہ انتباہ کے ردِعمل میں سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے پاکستان کو طویل محاذ آرائی کی دھمکی دی تھی۔
ایکس پر جاری پیغام میں خواجہ آصف نے کہا کہ طالبان 2021 سے پاکستان کے مختلف مقامات کو نشانہ بنا رہے ہیں اور ملک میں ہونے والے پُرتشدد واقعات کے براہِ راست ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے شدت آمیز الفاظ میں لکھا کہ “وہ مسلسل اور بے شرمی کے ساتھ ہمارے شہروں کو نشانہ بنا رہے ہیں، جہاں نہتے شہریوں، مساجد اور نمازیوں کا قتلِ عام کیا جا رہا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ طالبان اسلام کا نام استعمال کرتے ہیں مگر ان کے اقدامات قرآنی تعلیمات اور مسلمانوں کی صفات کے سراسر منافی ہیں۔ انہوں نے طالبان کو ‘مجرموں کا گروہ’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا ہمارے پرامن مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
دوسری جانب طالبان کے وزیرِ دفاع محمد یعقوب مجاہد نے طلوع نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں پاکستان کو خبردار کیا کہ طالبان طویل لڑائی کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا “اگر وہ ہم سے دس سال لڑیں گے تو ہم بھی دس سال لڑیں گے، ہم ڈرتے نہیں ہیں۔” ملا یعقوب مجاہد نے مزید کہا کہ اگر کابل غیر محفوظ ہوا تو اسلام آباد بھی محفوظ نہیں رہے گا اور پاکستان یہ نہ سمجھے کہ وہ افغانستان کو غیر مستحکم کر کے خود نتائج سے بچ جائے گا۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ممکن ہے پاکستان کو افغانستان میں رہ جانے والے امریکی فوجی سازوسامان کو تباہ کرنے کے لیے واشنگٹن کی مدد حاصل ہو۔
واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں میں پاک افغان سرحد پر دونوں افواج کے درمیان جھڑپوں میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان مسلسل یہ موقف اپنائے ہوئے ہے کہ طالبان تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے جنگجوؤں کو افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دے رہے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ رپورٹ بھی افغانستان میں ٹی ٹی پی کے ہزاروں جنگجوؤں کی موجودگی کی تصدیق کر چکی ہے۔
دیکھیے: ایران۔اسرائیل جنگ: مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سیاست اور پاکستان کے لیے مضمرات