سرحد پار سے جاری اشتعال انگیزی کے نتیجے میں شمالی وزیرستان کے سرحدی علاقے غلام خان کے گاؤں ‘گل لک خیل’ میں ایک مارٹر گولہ مقامی رہائشی مکان پر جا گرا، جس کے باعث ایک بچہ جاں بحق جبکہ 6 سے 12 سال کی عمر کے چار دیگر بچے شدید زخمی ہو گئے۔ زخمی بچوں کو فوری طبی امداد کے لیے ڈی ایچ کیو ہسپتال میران شاہ منتقل کر دیا گیا ہے۔
دہشت گردی کے مراکز
یہ المناک واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سرحد کے قریب آبادی کس طرح اس تنازع کی بھاری قیمت ادا کر رہی ہیں۔ سکیورٹی تجزیات کے مطابق افغانستان کے صوبوں خوست، پکتیکا، ننگرہار اور کنڑ میں تحریکِ طالبان پاکستان کے 60 سے زائد تربیتی مراکز اور آپریشنل ٹھکانے موجود ہیں، جو سرحد پار دہشت گردی کا بنیادی سبب بن رہے ہیں۔ پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی کاروائیاں ٹی ٹی پی کے انہی سرگرمیوں کے خلاف مرکوز ہیں، جس کے تحت فروری 2026 میں ننگرہار اور پکتیکا میں کی گئی کارروائیوں میں 70 سے 80 دہشت گرد ہلاک ہوئے تھے، تاہم طالبان کی جانب سے جوابی گولہ باری اور سرحد پار سے فائرنگ نے پاکستانی سرحدی دیہاتوں کو براہِ راست خطرے میں ڈال دیا ہے۔
دہشت گردی کے اعداد و شمار
سن 2024 میں پاکستان میں دہشت گردی کے باعث 1,081 اموات ریکارڈ کی گئیں، جن میں 52 فیصد ہلاکتیں ٹی ٹی پی کی کاروائیوں کا نتیجہ تھیں۔ سن 2025 میں بھی دہشت گردی کے واقعات میں 34 فیصد اضافہ ہوا، جن میں زیادہ تر ہلاکتیں سرحدی اضلاع میں ہوئیں۔ مانیٹرنگ ڈیٹا بتاتا ہے کہ افغان سرزمین سے ٹی ٹی پی کے 600 سے زائد حملے کیے گئے، جبکہ سن 2024 میں دہشت گردی کے 96 فیصد واقعات خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہوئے، جس نے ان علاقوں کو مسلسل سیکیورٹی دباؤ میں رکھا ہوا ہے۔
سرحدی تنازع اور شہریوں کی مشکلات
گل لک خیل کا یہ سانحہ ایک وسیع تر بحران کی عکاسی ہے، جہاں خاندان افغان سرزمین سے آپریٹ کرنے والے ٹی ٹی پی نیٹ ورکس اور طالبان کے زیرِ کنٹرول علاقوں سے ہونے والی جوابی کارروائیوں کے درمیان پس رہے ہیں۔ جب عسکریت پسندوں کے ٹھکانے اور سرحد پار سے گولہ باری کا دائرہ کار ایک دوسرے پر منطبق ہوتا ہے، تو دیہات فرنٹ لائن بن جاتے ہیں اور معصوم بچے اکثر اس کا پہلا شکار بنتے ہیں۔
سفارتی و سکیورٹی تعطل
سکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ صورتحال محض ایک سرحدی تنازع تک محدود نہیں رہی بلکہ ایک خطرناک ‘سفارتی اور سکیورٹی تعطل’ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ جب سرحد پار موجود دہشت گرد گروہوں کے محفوظ ٹھکانوں اور جوابی کارروائیوں کا دائرہ کار ایک دوسرے پر منطبق ہوتا ہے، تو مقامی دیہات غیر اعلانیہ ‘فرنٹ لائن’ بن جاتے ہیں، جس کا سب سے پہلا اور المناک شکار اکثر معصوم بچے ہی ہوتے ہیں۔ اس کشیدگی نے سرحد کے دونوں اطراف آباد لاکھوں شہریوں کی سماجی و معاشی زندگی کو بھی مفلوج بنا کر رکھ دیا ہے، جس سے انسانی بحران میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
دیرپا حل کی ضرورت
گل لک خیل کا یہ تازہ ترین سانحہ اس چیز کی عکاسی ہے کہ مقامی آبادی افغان سرزمین سے جاری دہشت گردی اور سرحد پار سے ہونے والی جوابی گولہ باری کے درمیان بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ جب تک ان عسکریت پسند گروہوں کے لیے سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ نہیں ہوتا اور بین الاقوامی سطح پر اس سکیورٹی خلا کو پر کرنے کے لیے کوئی ٹھوس لائحہ عمل مرتب نہیں کیا جاتا تب تک ان آبادیوں کے لیے یہ زندگی اور موت کا کھیل جاری رہنے کا خدشہ ہے۔ ان خاندانوں کی تکلیف محض ایک واقعے تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک طویل عرصے سے جاری اس پالیسی کی قیمت ہے جو اپنی جانوں، گھروں کی تباہی اور مستقل نفسیاتی صدمات کی صورت میں ادا کی جا رہی ہے۔