سی ٹی ڈی نے ڈیرہ غازی خان کے سرحدی گاؤں جوتر میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 4 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سی ٹی ڈی کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ جوتر کے علاقے میں 15 کے قریب دہشت گرد موجود ہیں۔
اطلاع ملتے ہی فوری طور پر کاروائی کا آغاز کیا اور علاقے کا محاصرہ کر لیا۔ جیسے ہی سکیورٹی اہلکار دہشت گردوں کے ٹھکانے کے قریب پہنچے، دہشت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی، جس کے جواب میں سی ٹی ڈی اہلکاروں نے بھی بھرپور جوابی کاروائی کی۔
ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق محکمہ کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ جوتر کے سرحدی علاقے میں 15 کے قریب دہشت گرد موجود ہیں۔ اطلاع ملتے ہی سی ٹی ڈی کی ٹیموں نے فوری طور پر علاقے کی ناکہ بندی کی اور آپریشن کا آغاز کیا۔ جیسے ہی سیکیورٹی اہلکار دہشت گردوں کے ٹھکانے کے قریب پہنچے، عسکریت پسندوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی، جس کے جواب میں سی ٹی ڈی اہلکاروں نے بھرپور جوابی کاروائی کی۔
فائرنگ کے تبادلے میں 4 دہشت گرد ہلاک ہو گئے، جبکہ 11 دیگر دہشت گرد رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قریبی پہاڑی سلسلے کی طرف فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
سی ٹی ڈی حکام نے جائے وقوعہ سے ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں جدید رائفلیں، گولیاں، بارودی مواد اور دیگر تخریبی سامان برآمد کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی شناخت کا عمل جاری ہے، جبکہ فرار ہونے والے 11 دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری علاقے میں تعینات ہے اور مشتبہ ٹھکانوں کی مسلسل تلاشی لی جا رہی ہے۔
ترجمان سی ٹی ڈی نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ انسدادِ دہشت گردی پنجاب ‘محفوظ پنجاب’ کے ہدف کے حصول کے لیے تندہی سے کوشاں ہے اور دہشت گردی کی اس لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہے۔
ڈی جی خان کی ضلعی انتظامیہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔