پاکستان نے سری لنکا کے 2022 کے معاشی بحران سے سبق حاصل کرتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی کے بجائے مالی استحکام اور زرمبادلہ کے ذخائر کو تحفظ دینے کی پالیسی اپنائی ہے

March 10, 2026

طالبان کے وزیر سرحدات ملا نور اللہ نوری کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی کمیشن نے حالیہ پاک افغان جنگ پر رپورٹ مکمل کرلی ہے، جس میں طالبان کے بھاری جانی و مالی نقصانات، جنگجوؤں کی کمی اور جبری بھرتیوں کی تجویز کا انکشاف کیا گیا ہے

March 10, 2026

پاکستان نے امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی رپورٹ میں ‘خصوصی تشویش والے ممالک’ کی نامزدگی کو غیر متوازن اور سیاسی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے

March 10, 2026

سلامتی کونسل میں افغانستان کی صورتحال پر بحث؛ مندوب نصیر احمد فائق نے طالبان دور میں انسانی حقوق کی پامالی پر تشویش کا اظہار کیا

March 10, 2026

پنجشیر کے علاقے ٹانخو میں طالبان فورسز کی جانب سے بڑے پیمانے پر نوجوانوں کی گرفتاریوں، جسمانی تشدد اور مقامی بزرگوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے تاکہ مقامی قیادت کو ختم کیا جا سکے

March 10, 2026

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل میں کہا کہ افغانستان اب دہشت گردی کا گڑھ بن چکا ہے، جہاں سے ٹی ٹی پی اور داعش سمیت 20 سے زائد گروہ پاکستان کو نشانہ بنا رہے ہیں

March 10, 2026

طالبان تحقیقاتی کمیشن: بے پناہ نقصان، 85 فیصد پوسٹوں پر پاکستانی قبضے کی تصدیق

طالبان کے وزیر سرحدات ملا نور اللہ نوری کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی کمیشن نے حالیہ پاک افغان جنگ پر رپورٹ مکمل کرلی ہے، جس میں طالبان کے بھاری جانی و مالی نقصانات، جنگجوؤں کی کمی اور جبری بھرتیوں کی تجویز کا انکشاف کیا گیا ہے
طالبان کے وزیر سرحدات ملا نور اللہ نوری کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی کمیشن نے حالیہ پاک افغان جنگ پر رپورٹ مکمل کرلی ہے، جس میں طالبان کے بھاری جانی و مالی نقصانات، جنگجوؤں کی کمی اور جبری بھرتیوں کی تجویز کا انکشاف کیا گیا ہے

افغان طالبان کے تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ میں حالیہ پاک افغان جنگ کے دوران طالبان کے بھاری نقصانات، جنگجوؤں کی کمی اور جبری بھرتیوں کی تجویز سامنے آگئی، جبکہ کئی علاقوں میں پاکستانی پوزیشنز کی برتری کا بھی ذکر کیا گیا ہے

March 10, 2026

طالبان کے وزیر سرحدات ملا نور اللہ نوری کی قیادت میں افغان طالبان کے تحقیقاتی کمیشن نے جنگ میں طالبان کے بے پناہ نقصان اور پاکستان کے خلاف لڑنے والوں کی قلت کی نشاندہی کرکے جبری بھرتیوں کی تجویز دے دی۔ سورس کے مطابق کمیشن نے حالیہ پاک افغان جنگ پر اپنی رپورٹ مکمل کرلی ہے، جسے جلد ہی طالبان رجیم کے سربراہ ملا ہیبت اللہ کو پیش کردیا جائے گا۔ رپورٹ میں 85 فیصد ملا ہیبت اللہ کی جانب سے قائم کئے گئے اس کمیشن جی ڈی آئی کا سرحدات وقبائل سربراہ اور وزارت دفاع کا ملٹری آپریشنز کا سربراہ شامل تھے۔ پاکستانی سرحد سے ملحق افغان صوبوں کے گورنرز نے بھی کمیشن کی معاونت کی۔ سورس کے مطابق پاک افغان بارڈر کا مکمل دورہ کرنے کے بعد کمیشن نے رپورٹ مکمل کرلی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ “کمیشن کا مقصد جنگی علاقوں کے نتائج کی بنیاد پر جنگ کے بارے میں ایک تصویر اور معلومات پیش کرنا ہے۔ وفد نے جنگ کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اور پھر اپنے دورے کی رپورٹ تیار کی ہے جو ملا ہیبت اللہ کو پیش کی جائے گی۔”

نمبر1 آپریشن (افغان طالبان کا پاکستانی پوسٹوں پر حملہ) پہلے دن کامیاب رہا، کیونکہ دشمن (پاکستان) کو اندازہ نہیں تھا کہ افغان سکیورٹی فورسز اس پیمانے پر براہ راست حملہ کریں گی۔

نمبر2 دن کے آغاز میں ہماری افواج کا حملہ حیران کن تھا۔ دشمن (پاکستان) نے خوف کے مارے اپنی خندقیں چھوڑ دیں اور بھاگ گئے، جس کے نتیجے میں انہیں بھاری جانی نقصان ہوا۔ اگر دشمن (پاکستان) اپنی خندقوں میں موجود رہتا تو ہمارا نقصان زیادہ اور ان کا کم ہوتا۔

نمبر3 سرحد کے ساتھ دوسرے ہفتے میں ہماری (طالبان رجیم) ہلاکتوں اور مرنے والوں میں نمایاں اضافہ ہوا، اور دشمن (پاکستان) نے زمینی اور فضائی راستے سے ہماری سیکورٹی فورسز پر حملہ کیا۔ ہماری افواج (طالبان رجیم) کو بھاری مالی اور انسانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، ہمارے ہزاروں خاندان بے گھر ہوئے، اور زخمیوں کو مناسب علاج نہیں مل رہا۔

نمبر4 دشمن (پاکستان) کے مقابلے میں ہماری پوزیشنیں بہت کمزور ہے۔ مثال کے طور پر کنڑ کے علاقے میں دشمن کے پاس 310 مضبوط پوزیشنیں ہیں جبکہ ہمارے پاس صرف 20 ہیں۔

ہمارے پاس دشمن کی طاقت کا آدھا نہیں تو کم از کم ایک تہائی ہونا چاہیے۔ اگر ہم نفری اور ساز و سامان کے لحاظ سے اتنے ہی کمزور رہے تو ہم دشمن کا مقابلہ نہیں کر پائیں گے اور مستقبل میں ایک بڑے مسئلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

نمبر5 مشرقی علاقے میں نئے جنگجوؤں کے لیے بھرتی اور برقرار رکھنے والے افسران کو جلد از جلد اپنی ڈیوٹی شروع کرنی چاہیے، کیونکہ ہم گولہ بارود اور مالی وسائل کے علاوہ اہلکاروں کی کمی کا بھی شکار ہیں۔

مندرجہ بالا تحقیقات کے بعد ہمیں مستقبل کے حوالے سے قیادت کی ہدایات کا انتظار ہے۔ یقینا تفصیلی معلومات ابھی زیر تفتیش ہیں اور ضروری انتظامات کے بعد قیادت کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔

متعلقہ مضامین

پاکستان نے سری لنکا کے 2022 کے معاشی بحران سے سبق حاصل کرتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی کے بجائے مالی استحکام اور زرمبادلہ کے ذخائر کو تحفظ دینے کی پالیسی اپنائی ہے

March 10, 2026

پاکستان نے امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی رپورٹ میں ‘خصوصی تشویش والے ممالک’ کی نامزدگی کو غیر متوازن اور سیاسی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے

March 10, 2026

سلامتی کونسل میں افغانستان کی صورتحال پر بحث؛ مندوب نصیر احمد فائق نے طالبان دور میں انسانی حقوق کی پامالی پر تشویش کا اظہار کیا

March 10, 2026

پنجشیر کے علاقے ٹانخو میں طالبان فورسز کی جانب سے بڑے پیمانے پر نوجوانوں کی گرفتاریوں، جسمانی تشدد اور مقامی بزرگوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے تاکہ مقامی قیادت کو ختم کیا جا سکے

March 10, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *