طالبان کے افغانستان پر غاصبانہ قبضے کے بعد سے سابق افغان نیشنل ڈیفنس اینڈ سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر انتقامی کارروائیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ تشویشناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ موصولہ ڈیٹا اور رپورٹس کے مطابق صرف گزشتہ تین مہینوں کے دوران 184 سے زائد سابق افغان فوجیوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا جا چکا ہے۔
افغانستان اس وقت ایک ایسے خونی موڑ پر کھڑا ہے جہاں طالبان کے جابرانہ نظام اور بیانیے سے اختلاف یا ان کی ہاں میں ہاں نہ ملانے کا سیدھا مطلب اپنی جان گنوانا ہے۔ طالبان کی جانب سے عام معافی کے تمام تر دعوے محض ایک ڈھونگ ثابت ہوئے ہیں، جبکہ زمینی سطح پر سابق سیکیورٹی اہلکاروں کو چُن چُن کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایران اور ترکی سے افغان مہاجرین کی مسلسل اور جبری بے دخلی نے صورتحال کو مزید گمبھیر بنا دیا ہے۔ ان ممالک سے زبردستی واپس بھیجے جانے والے سابق اہلکاروں کو طالبان کی استبدادی اور جابرانہ پالیسیوں کے باعث فوری حراست، بے رحمانہ تشدد اور قتل کے شدید ترین خطرات کا سامنا ہے۔
اس انتہائی سنگین انسانی بحران اور طالبان کے انتقامی ایجنڈے کے باوجود عالمی برادری اور بین الاقوامی تنظیموں کی مسلسل خاموشی پر سخت تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ عالمی عدم توجہی کے باعث طالبان کا یہ انتقامی اور جابرانہ سلسلہ بلا روک ٹوک جاری ہے۔
دیکھیے: پنجشیر اور بدخشاں کے بعد اب فاریاب: طالبان مخالف نیا مسلح گروہ سامنے آ گیا