چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے پاکستان اور افغان طالبان کے مابین حالیہ سرحدی جھڑپوں کے بعد بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تمام تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔ چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق وانگ یی نے افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ اختلافات کو باہمی مشاورت اور سفارتی ذرائع سے ہی دور کیا جانا چاہیے۔
خطے کے امن و استحکام پر اثرات
چینی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر پاکستان اور افغانستان کے درمیان یہ تنازع مزید طول پکڑتا ہے، تو یہ مسلسل کشیدگی پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ چین کا مؤقف ہے کہ صورتحال کی پیچیدگی سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ اشتعال انگیزی کے بجائے تحمل کا مظاہرہ کیا جائے۔ بیجنگ نے واضح کیا کہ وہ خطے میں کسی بھی ایسی صورتحال کا حامی نہیں جو سلامتی کے مجموعی ڈھانچے کو نقصان پہنچائے۔
سفارتی کوششیں اور پاکستان سے رابطہ
واضح رہے کہ اس سے قبل رواں ہفتے ہی چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے پاکستانی ہم منصب اسحاق ڈار سے بھی تفصیلی بات چیت کی تھی۔ ان ملاقاتوں اور رابطوں کا مقصد تمام فریقین کو اس بات پر آمادہ کرنا ہے کہ وہ مزید کشیدگی اور فوجی تصادم سے بچنے کے لیے جلد از جلد مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔ چین اس وقت خطے میں ایک ثالث اور امن پسند قوت کے طور پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کر رہا ہے تاکہ پاک افغان سرحد پر پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ کیا جا سکے۔