کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کے اراکین نے صوبائی اسمبلی کو غیر نمائندہ قرار دینے کے بیانیے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے محض سیاسی نعرہ بازی قرار دیا ہے۔ صوبائی وزرا کا کہنا ہے کہ وہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر ایوان میں پہنچے ہیں، لہٰذا عوامی رائے پر سوال اٹھانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔
حلقہ پی بی۔ 44 سے بلوچستان اسمبلی کے رکن میر عبدالہ گورگیج نے اس تاثر کو یکسر مسترد کر دیا ہے کہ موجودہ صوبائی اسمبلی غیر عوامی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے حلقے کے عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر ایوان میں پہنچے ہیں، اس لیے اسمبلی کی نمائندگی پر سوال اٹھانا حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ انہوں نے حلقے کی انتخابی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ حلقہ ماضی میں بھی ایک فعال اور مسابقتی انتخابی میدان رہا ہے، جہاں مختلف سیاسی شخصیات حصہ لیتی رہی ہیں۔ ان کے بقول سردار عمر گورگیج، علی مدد جتک اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما عبدالرحیم مندوخیل بھی ماضی میں اس نشست پر انتخابات لڑتے رہے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اسمبلی کی موجودہ تشکیل عوامی رائے کا نتیجہ ہے اور اسے غیر نمائندہ قرار دینا درست نہیں ہے۔
صوبائی وزیر نور محمد خان دمڑ نے بھی اپوزیشن کے اس بیانیے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں نمائندگی کے بحران کا دعویٰ صرف ایک سیاسی نعرہ ہے۔ جو لوگ انتخابات میں ہار گئے ہیں، وہ ہمیشہ ایسا ہی شور مچاتے ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ عناصر ہیں جنہیں عوام نے منتخب نہیں کیا اور وہ صرف دباؤ کے لیے اس بیانیے کا استعمال کر رہے ہیں۔ صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ اسمبلی کے تمام اراکین عوامی ووٹ سے منتخب نمائندے ہیں اور صوبے کے اہم فیصلے صوبائی کابینہ میں کیے جاتے ہیں جس کی مکمل قانونی حیثیت ہے۔
دیکھئیے:بلوچستان حکومت کا کوئٹہ میں کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ کے لیے گرین لائن بس سروس کا آغاز