افغانستان کی موجودہ معاشی صورتحال اور حالیہ تجارتی تعطل کو محض ایک معاشی مسئلہ قرار دینا حقائق کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے، کیونکہ اس تناؤ کے اصل محرکات سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی میں چھپے ہوئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحد پر حالیہ تجارتی رکاوٹیں کوئی اچانک پیدا ہونے والا واقعہ نہیں بلکہ یہ سرحد پار سے جاری عسکری سرگرمیوں کا براہِ راست نتیجہ ہیں۔ تجزیوں کے مطابق جب تک سرحدی علاقوں میں امن و سلامتی کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوتے، دونوں ممالک کے درمیان پائیدار معاشی ہم آہنگی کا خواب ادھورا رہے گا۔
ٹی ٹی پی کی موجودگی اور تحفظات
اس تمام تر صورتحال کا سب سے اہم پہلو، جو اکثر عالمی سطح پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، وہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے جنگجوؤں کی افغان سرزمین پر موجودگی ہے۔ عالمی مانیٹرنگ رپورٹس اور سکیورٹی ماہرین کے مطابق ہزاروں جنگجو افغانستان کے مشرقی اور جنوب مشرقی علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں، جہاں سے وہ پاکستان کو نشانہ بناتے ہیں۔ جب ان حملوں میں شدت آتی ہے تو پاکستان کو اپنی سالمیت کے تحفظ کے لیے سخت سیکیورٹی اقدامات اور عارضی تجارتی پابندیاں لگانے پر مجبور ہونا پڑتا ہے، جس سے تجارتی بندش ناگزیر ہو جاتی ہے۔
تجارت اور ٹرانزٹ: سبب اور نتیجہ
تاریخی طور پر پاکستان، افغانستان کے لیے تجارت اور راہداری کی سب سے بڑی شہ رگ رہا ہے۔ افغان برآمدات دہائیوں سے پاکستانی بندرگاہوں اور سڑکوں کے نیٹ ورک پر انحصار کرتی آئی ہیں، جس سے سالانہ اربوں ڈالر کی تجارت ممکن ہوئی۔ تاہم، کسی بھی ملک سے یہ توقع رکھنا غیر منطقی ہے کہ وہ اپنی سرحد کے دوسری پار دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ ملنے کے باوجود راہداری کے راستے کھلے رکھے۔ حقیقت یہ ہے کہ سیکیورٹی عدم استحکام معاشی رکاوٹوں کو جنم دے رہا ہے، نہ کہ اس کے برعکس۔
داخلی پالیسیاں اور عالمی تنہائی
افغانستان کی معاشی کمزوری کی ایک بڑی وجہ وہاں کی اندرونی پالیسیاں اور انسانی حقوق کی صورتحال بھی ہے۔ طالبان انتظامیہ کی جانب سے خواتین کی تعلیم، ملازمت اور عوامی زندگی پر پابندیوں نے جہاں انسانی بحران کو جنم دیا، وہیں عالمی سرمایہ کاری کی راہ میں بھی رکاوٹیں کھڑی کیں۔ آبادی کے ایک بڑے حصے کو معاشی عمل سے باہر رکھنے اور بین الاقوامی روابط میں کمی نے ملکی معاشی صلاحیت کو مفلوج کر دیا ہے۔ لہٰذا، افغانستان کے معاشی زوال کے لیے صرف پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرانا حقائق کے برعکس ہے۔
پائیدار تجارت کے لیے شرط
پائیدار علاقائی تجارت اور معاشی ترقی کے لیے سرحد کے دونوں اطراف امن پہلی شرط ہے۔ جب تک عسکریت پسند گروہوں کو افغانستان کے اندر کارروائیوں کے لیے جگہ میسر رہے گی اور سرحد پار حملے ہوتے رہیں گے، دونوں ممالک کے درمیان معاشی کھنچاؤ کا خاتمہ ممکن نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کابل انتظامیہ دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے بنیادی تحفظات دور کرے تاکہ خطے میں پائیدار امن اور خوشحالی کا نیا دور شروع ہو سکے۔