صدرِ پاکستان آصف زرداری نے افغان طالبان کی جانب سے پاکستانی حدود میں شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرون کے استعمال کو ایک انتہائی سنگین پیشرفت قرار دیا ہے۔ صدرِ مملکت نے اپنے ایک حالیہ بیان میں واضح کیا ہے کہ افغان طالبان نے ان ‘ابتدائی نوعیت کے ڈرونز’ کا استعمال کر کے وہ ‘سرخ لکیر’ عبور کر لی ہے جسے کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
سرحدی خودمختاری اور قومی وقار
صدر زرداری کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے طویل عرصے تک تحمل کا مظاہرہ کیا گیا، مگر اب ملک کے شہری اہداف پر حملے ریاستِ پاکستان کے لیے ناقابلِ قبول ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی ہمسایہ ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ پاکستان کی خودمختاری کو پامال کرے یا یہاں کے شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سیکیورٹی فورسز نے سرحد پر افغان ڈرونز کے حملوں کو ناکام بنانے کے لیے اپنی حکمت عملی مزید سخت کر دی ہے۔
فوجی عزم اور صورتحال کا جائزہ
صدرِ مملکت نے کہا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملک کے ہر انچ کا دفاع کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار اور پرعزم ہیں۔ انہوں نے باور کرایا کہ شہری آبادی پر حملے دہشت گردانہ ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں، جس کا جواب اب پوری طاقت سے دیا جائے گا۔ صدر زرداری نے سیکیورٹی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ سرحد پار سے ہونے والی کسی بھی ایسی مذموم کوشش کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے۔