پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے آپریشن غضب للحق کے تحت پاک افغان سرحد پر کارروائیاں جاری ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ آپریشن تحریک طالبان افغانستان (ٹی ٹی اے) کی جانب سے 26 فروری 2026 کو شروع ہونے والی مبینہ دشمن کارروائیوں کے جواب میں شروع کیا گیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان کی فورسز سرحدی علاقوں میں دراندازی کی کوششوں کو مسلسل ناکام بنا رہی ہیں جبکہ افغانستان کے اندر موجود دہشت گرد نیٹ ورکس اور ان کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف بھی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلسل جوابی کارروائیوں کے باعث عسکریت پسند گروپوں کی آپریشنل صلاحیت کو نمایاں نقصان پہنچا ہے۔
قندھار میں بڑے فضائی حملے
افغانستان کے صوبہ قندھار میں پاک فضائیہ کی جانب سے فضائی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جن میں متعدد اہم عسکری اور انٹیلی جنس مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق حملوں کے دوران کم از کم تین انتہائی اہم مقامات کو نشانہ بنایا گیا جنہیں طالبان کے عسکری ڈھانچے میں کلیدی حیثیت حاصل تھی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملوں کا ایک بڑا ہدف طالبان کی انٹیلی جنس ایجنسی جی ڈی آئی کا علاقائی ہیڈکوارٹر تھا، جسے مبینہ طور پر عسکری منصوبہ بندی اور مختلف آپریشنل سرگرمیوں کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مقام پر ہونے والے حملوں کے بعد علاقے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے جبکہ نقصانات اور ہلاکتوں کے حوالے سے تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق قندھار کے ڈسٹرکٹ 13 میں قائم ایک خصوصی فورس یونٹ کے ہیڈکوارٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ یونٹ طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی ہدایت پر قائم کیا گیا تھا اور اسے طالبان کی اہم ترین سیکیورٹی فورس سمجھا جاتا ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق یہ یونٹ براہ راست ملا ہیبت اللہ کی سیکیورٹی اور حساس عسکری آپریشنز سے منسلک تھا، اسی لیے اسے طالبان قیادت کا “کراؤن جیول” بھی قرار دیا جاتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق اسی کارروائی کے دوران طالبان کی 313 بدری بریگیڈ کے ہیڈکوارٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ بریگیڈ ملا ہیبت اللہ کی ذاتی سیکیورٹی پر مامور تھی اور اسے طالبان کی ایلیٹ فورس تصور کیا جاتا ہے۔ بعض سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کے خلاف ڈرون سرگرمیوں اور دیگر کارروائیوں میں ملوث عناصر بھی اسی نیٹ ورک سے وابستہ تھے۔
باخبر ذرائع کے مطابق قندھار میں ڈرون آپریشنز سے متعلق مبینہ سہولیات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جنہیں عسکری سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ حملوں کے بعد علاقے میں شدید سیکیورٹی اقدامات کیے گئے ہیں جبکہ طالبان قیادت میں تشویش کی لہر پائی جا رہی ہے۔
خیبر پختونخوا محاذ: سرحدی علاقوں میں جھڑپیں
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقوں میں پاکستانی فورسز نے اپنی مضبوط آپریشنل برتری برقرار رکھی ہے۔ باجوڑ، کرم اور پاراچنار کے سیکٹرز میں عسکریت پسندوں کی جانب سے دراندازی اور فائرنگ کی متعدد کوششوں کو ناکام بنایا گیا۔
اطلاعات کے مطابق عسکریت پسند عناصر نے سرحد پار سے مارٹر، توپ خانے اور چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کی، جس کے جواب میں پاکستانی فورسز نے مربوط کارروائی کرتے ہوئے توپ خانے، مارٹرز، ٹینکوں اور دیگر ہتھیاروں کے ذریعے جوابی کارروائی کی۔
ذرائع کے مطابق تیرہ سیکٹر میں عسکریت پسندوں نے چار مختلف زمینی حملوں کی کوشش کی تاہم پاکستانی فورسز نے انہیں بروقت کارروائی کرتے ہوئے پسپا کر دیا۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں نگرانی کے جدید نظام کے ذریعے عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت اور ڈرون سرگرمیوں کو مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے۔
بلوچستان محاذ: سرحدی علاقوں میں ہائی الرٹ
بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں بھی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے سخت نگرانی اور آپریشنل تیاری برقرار رکھی گئی ہے۔ قلعہ سیف اللہ، ژوب، نوشکی، چمن، چلتن اور سمبازہ کے علاقوں میں فورسز مسلسل گشت اور نگرانی کر رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ژوب سیکٹر میں واقع گڈوانہ انکلیو پاکستانی کنٹرول میں ہے اور اس کے اردگرد دفاعی پوزیشنز کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسی دوران سرحد پار سے گڈوانہ انکلیو پر راکٹ فائر بھی کیا گیا، تاہم تمام راکٹ انکلیو کے اندر گرے اور کسی جانی نقصان یا بڑے مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
افغانستان کے اندر اسٹریٹجک حملے
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 12 اور 13 مارچ کی درمیانی شب پاکستان نے افغانستان کے اندر موجود دہشت گردوں سے منسلک انفراسٹرکچر کے خلاف درستگی کے ساتھ فضائی حملے کیے۔ ان کارروائیوں کا مقصد سرحد پار دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے والے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا بتایا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ان حملوں کے دوران قندھار ایئر فیلڈ پر موجود تیل کے ذخائر کو بھی نشانہ بنایا گیا جنہیں مبینہ طور پر افغان طالبان عناصر اور ان سے منسلک گروپس عسکری سرگرمیوں کے لیے استعمال کر رہے تھے۔
دہشت گردوں کے نقصانات: سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق جاری آپریشن کے دوران عسکریت پسندوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق:
- ہلاک ہونے والے عسکریت پسند: 663
- زخمی عسکریت پسند: 887 سے زائد
- تباہ کیے گئے چیک پوسٹس: 249
- قبضے میں لے کر تباہ کی گئی پوسٹس: 44
- تباہ کیے گئے ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانہ: 224
- فضائی حملوں کے ذریعے نشانہ بنائے گئے مقامات: 70
آپریشنل جائزہ
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ میدان جنگ میں مسلسل نقصانات کے باوجود عسکریت پسند گروپس کے پروپیگنڈا نیٹ ورکس سوشل میڈیا پر مختلف دعوے کر رہے ہیں اور زمینی صورتحال کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حکام کے مطابق موجودہ صورتحال میں پاک افغان سرحد پر پاکستانی فورسز کی واضح برتری برقرار ہے اور فورسز سرحدی علاقوں پر مکمل کنٹرول رکھتی ہیں۔
آپریشن جاری رکھنے کا اعلان
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن غضب للحق اس وقت تک جاری رہے گا جب تک پاکستان کے خلاف سرحد پار دہشت گردی میں ملوث نیٹ ورکس اور ان کے بنیادی ڈھانچے کو مکمل طور پر ختم نہیں کر دیا جاتا۔
ماہرین کے مطابق حالیہ کارروائیاں پاک افغان سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کی نشاندہی کرتی ہیں اور آنے والے دنوں میں اس صورتحال کے خطے کی سیکیورٹی پر اہم اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔