ایران کے صوبہ مرکزی کے شہر خمین میں ایک تعلیمی ادارے پر ہونے والے مشکوک فضائی حملے نے خطے میں نئی کشیدگی کو جنم دے دیا ہے۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق آج صبح سویرے ‘شہید خمینی بوائز اسکول’ کو ایک فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں اسکول کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ایرانی ذرائع نے اس کارروائی کو مبینہ طور پر امریکا اور اسرائیل سے منسوب کیا ہے۔
مہر نیوز ایجنسی نے مقامی انتظامیہ کے حوالے سے تصدیق کی ہے کہ حملے کے وقت اسکول بند تھا، جس کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اسکول کے قریبی رہائشی مکانات بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ واقعے کے فوراً بعد ایرانی ہلال احمر سوسائٹی نے جائے وقوعہ کی تصاویر جاری کرتے ہوئے اسے ایک منظم فضائی حملہ قرار دیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات مکمل کی جا رہی ہیں تاکہ حملے کی نوعیت اور اس کے محرکات کا تعین کیا جا سکے۔ تہران کی جانب سے اس واقعے پر فوری ردِعمل کی توقع کی جا رہی ہے، جبکہ عالمی برادری نے اس تازہ کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
مقامی انتظامیہ اور ایرانی انٹیلیجنس حکام نے ان حملوں کو “دشمن کی جانب سے تعلیمی نظام کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش” قرار دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان حملوں میں معجزانہ طور پر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن عمارتوں کو پہنچنے والا نقصان اس بات کا ثبوت ہے کہ حملہ آوروں کا مقصد صرف خوف و ہراس پھیلانا تھا۔ ایرانی ہلال احمر سوسائٹی کے مطابق، متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں اور سکیورٹی اداروں نے علاقے کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔