عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے اور تزویراتی طور پر اہم آبی گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ کی بندش کے باعث دنیا بھر میں توانائی کا سنگین بحران پیدا ہو گیا ہے۔ برینٹ کروڈ کی قیمت126 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح تک پہنچنے کے نتیجے میں جہاں عالمی سطح پر مہنگائی کی لہر آئی ہے، وہیں تیل کی ترسیل بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ پاکستان، جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے بڑی حد تک درآمدی تیل پر انحصار کرتا ہے، اس وقت ان عالمی اثرات کی زد میں ہے۔
ان مشکل حالات کے باوجود حکومت پاکستان نے عالمی مارکیٹ کے تناسب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں براہِ راست بوجھ عوام پر منتقل نہیں کیا اور نہ ہی ملک میں تیل کی قلت پیدا ہونے دی۔ حکومت نے اس عالمی بحران سے نمٹنے کے لیے کفایت شعاری کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کی ہے، جس سے حاصل ہونے والے129 ارب روپے پٹرولیم سبسڈی کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
علاوہ ازیں حکومت نے صوبوں کے اشتراک سے ایک جامع ‘ٹارگٹڈ سبسڈی پروگرام’ کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد موٹر سائیکل سواروں، مال بردار ٹرکوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کو براہِ راست ریلیف فراہم کرنا ہے تاکہ عام آدمی کے لیے کرایوں میں استحکام رہے اور کسانوں کی پیداواری لاگت میں کمی لائی جا سکے۔ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے اس خصوصی سبسڈی پروگرام میں مزید ایک ماہ کی توسیع کا بھی فیصلہ کیا ہے تاکہ عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ سے غریب طبقے کو محفوظ رکھا جا سکے۔