معروف تجزیہ کار اور سماجی کارکن لوری اے واٹکنز نے انکشاف کیا ہے کہ متعدد عالمی میڈیا نیٹ ورکس نہ صرف اسلام مخالف بیانیے کو معمول کا حصہ بنا رہے ہیں بلکہ دانستہ طور پر نفرت کی آگ پر تیل ڈالنے کا کام کر رہے ہیں۔ ایشیا ون کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے صحافیوں اور میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ انتہا پسندانہ پروپیگنڈے کے سامنے حقائق کا دفاع کریں۔
غلط معلومات اور نشانہ مسلم کمیونٹی
لوری واٹکنز کے مطابق امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں قدامت پسند میڈیا پلیٹ فارمز ایک مخصوص حکمت عملی کے تحت مسلمانوں کے خلاف غلط معلومات پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ خود جان بوجھ کر ایسے پلیٹ فارمز پر جاتی ہیں تاکہ وہاں پھیلے جھوٹے بیانیے کو چیلنج کر سکیں۔ واٹکنز نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ کسی ایک فرد کے جرم کی بنیاد پر پوری مسلم کمیونٹی کو موردِ الزام ٹھہرانا ایک خطرناک رجحان ہے، جو معاشرے میں تشدد اور گہری تقسیم پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے مثال دی کہ جب کوئی سفید فام قوم پرست جرم کرتا ہے تو اسے پوری عیسائی برادری سے نہیں جوڑا جاتا، لیکن مسلمانوں کے معاملے میں دہرا معیار اپنایا جاتا ہے۔
ہم بمقابلہ وہ کی سیاست
انٹرویو کے دوران واٹکنز نے سیاستدانوں کے کردار پر بھی سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ کئی رہنماء امیگریشن کے حساس مسئلے کو اپنے سیاسی مفادات اور “ہم بمقابلہ وہ” کی تقسیم والی سیاست کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ عوام کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ روزگار اور رہائش کے تمام مسائل کی جڑ مہاجرین ہیں، حالانکہ ان دعوؤں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ڈیجیٹل دور میں یہ زہریلا مواد آن لائن مستقل طور پر موجود رہتا ہے، جو نسل در نسل کشیدگی کو منتقل کرنے کا سبب بن رہا ہے۔
صحافتی ذمہ داری اور اسلام مخالف شخصیات کا محاسبہ
لوری واٹکنز نے صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ لائیو ٹی وی پر غلط معلومات پیش کرنے والوں کی فوری تصحیح کرنا پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے لورا لومر جیسی متنازع شخصیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے اسلام مخالف اور زینوفوبک (غیر ملکیوں سے نفرت) بیانیے کو ہر سطح پر چیلنج کیا جانا چاہیے۔ واٹکنز نے بھارت میں ایک فورم کے دوران لورا لومر کو مقامی شہریوں اور تاجروں کی جانب سے سخت سوالات کا نشانہ بنائے جانے کے اقدام کو سراہا۔ انہوں نے ان اداروں اور منتظمین کو بھی کٹہرے میں کھڑا کیا جو نفرت پھیلانے والی شخصیات کو اپنے پلیٹ فارمز پر مدعو کر کے انہیں قانونی حیثیت فراہم کرتے ہیں۔