پاک افغان سرحدی پٹی پر کشیدگی کے دوران پاکستانی سیکورٹی فورسز نے ژوب سیکٹر کے مدمقابل افغانستان کے اندر ایک اہم تزویراتی کامیابی حاصل کرتے ہوئے 32 مربع کلومیٹر رقبے پر مشتمل ‘گڈوانہ انکلیو’ کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ آئی ایس پی آر نے اس حوالے سے تازہ ترین فوٹیج جاری کی ہے جس میں انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور (آئی جی ایف سی) بلوچستان نارتھ، میجر جنرل محمد عاطف مجتبیٰ کو مذکورہ علاقے کا دورہ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ کارروائی افغان طالبان (ٹی ٹی اے) کی جانب سے پاکستانی چوکیوں پر بلا اشتعال فائرنگ اور دراندازی کی کوششوں کے جواب میں کی گئی۔ پاکستانی فورسز نے ‘محدود تزویراتی ایکشن’ کے دوران سرحد پار کر کے ٹی ٹی اے کی ‘طاہر پوسٹ’ سمیت ملحقہ اہم مقامات کا قبضہ حاصل کر لیا، جس کے بعد افغان جنگجوؤں کے پسپا ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
🇦🇫⚡️🇵🇰 – Pakistan's ISPR has published raw footage of General Atif Mujtaba, the chief executive of FC Balochistan North, visiting the captured Ghudwana enclave in Zhob Sector
— Afghan Forum (@ForumAfghan) May 1, 2026
What an international humiliation for the TTA. Afghanistan has officially lost 32 sq km of its land 💔 pic.twitter.com/Wzi040EYqT
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی فوٹیج میں میجر جنرل عاطف مجتبیٰ کو مفتوحہ علاقے میں سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لیتے اور نوجوانوں کا حوصلہ بڑھاتے دیکھا جا سکتا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق 32 مربع کلومیٹر افغان علاقے سے محرومی کابل انتظامیہ کے لیے بین الاقوامی سطح پر ایک بڑی سبکی تصور کی جا رہی ہے، کیونکہ اس سے قبل افغانستان نے اس علاقے میں کسی بھی قسم کی پیش قدمی کی تردید کی تھی۔
رپورٹس کے مطابق پاکستانی فورسز نے اب اس علاقے میں باقاعدہ باڑ لگانے اور نئی حفاظتی چوکیاں قائم کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے تاکہ مستقبل میں دہشت گردوں کی دراندازی کو روکا جا سکے۔ اس پیش رفت کو سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی ‘زیرو ٹالرینس’ پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اب تک کابل کی جانب سے اس علاقائی نقصان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔