مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ نے اس وقت انتہائی خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے جب اسرائیل نے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی اور بسیج فورس کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔ ایران کی جانب سے تاحال ان سنگین دعوؤں پر کسی قسم کا باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
اسرائیلی وزیرِ دفاع کا دعویٰ
اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ رات کیے گئے ایک ٹارگٹڈ حملے میں ایران کی طاقتور ترین شخصیت اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی ہلاک ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی فوج کا مزید کہنا ہے کہ اسی آپریشن کے دوران بسیج فورس کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی کو بھی نشانہ بنا کر مار دیا گیا ہے۔
تہران اور بیروت پر یلغار
اسرائیلی فضائیہ نے رات گئے بیروت کے تین مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا، جس کے بعد حملوں کا رخ براہِ راست ایران کی جانب موڑ دیا گیا۔ اسرائیلی فوجی ترجمان کے مطابق تہران پر نئے سرے سے فضائی حملے شروع کر دیے گئے ہیں جن میں اہم عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تہران میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، تاہم نقصانات کی تفصیلات تاحال واضح نہیں ہو سکیں۔
علاقائی صورتحال
علی لاریجانی جیسے سینئر عہدیدار کی ہلاکت کی خبروں پر ایرانی حکومت اور پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ان دعوؤں میں سچائی ہوئی تو یہ ایران کے سیکیورٹی ڈھانچے کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ثابت ہوگا اور خطے میں جاری جنگ ایک ایسے موڑ پر پہنچ جائے گی جہاں سے واپسی ممکن نہ ہوگی۔