حملوں کے بعد سامنے آنے والی ویڈیوز میں حملے کے بعد دوسری بار دھماکوں کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں، جو عام طور پر اسلحہ یا بارودی مواد کے ذخائر کی موجودگی کی نشاندہی کرتی ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ پہلو اس مؤقف کو تقویت دیتا ہے کہ اصل ہدف عسکری نوعیت کا تھا، نہ کہ کوئی شہری یا طبی مرکز۔

March 17, 2026

اسرائیلی وزیرِ دفاع کا دعویٰ: ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی اور غلام رضا سلیمانی ہلاک

March 17, 2026

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم جاری؛ حریت کانفرنس نے مودی حکومت کے ‘معمول کے حالات’ کے دعوے کو عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش قرار دے دیا

March 17, 2026

جنگ کے سائے میں پاک ایران تجارتی مشن بحال؛ سفیرِ پاکستان مدثر علی ٹیپو نے زمینی سرحدوں اور گرین چینلز کے فعال ہونے کی تصدیق کر دی

March 17, 2026

میڈیا نیٹ ورکس اسلام فوبیا کو ہوا دے کر معاشرتی تقسیم بڑھا رہے ہیں؛ لوری واٹکنز نے صحافیوں کو جھوٹے پروپیگنڈے اور نفرت انگیز بیانیے کے خلاف سینہ سپر ہونے کی کال دے دی

March 17, 2026

مشرقِ وسطیٰ میں جنگی صورتحال کے باعث پاکستان کا فضائی رابطہ متاثر؛ ملک بھر کے 8 ایئرپورٹس سے 101 پروازیں منسوخ

March 17, 2026

کابل حملہ: سینکڑوں ہلاکتوں کے افغان دعوے مگر شواہد کہاں ہیں؟ تحقیقات کے مطالبات شدت اختیار کر گئے

حملوں کے بعد سامنے آنے والی ویڈیوز میں حملے کے بعد دوسری بار دھماکوں کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں، جو عام طور پر اسلحہ یا بارودی مواد کے ذخائر کی موجودگی کی نشاندہی کرتی ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ پہلو اس مؤقف کو تقویت دیتا ہے کہ اصل ہدف عسکری نوعیت کا تھا، نہ کہ کوئی شہری یا طبی مرکز۔
کابل حملہ: سینکڑوں ہلاکتوں کے افغان دعوے مگر شواہد کہاں ہیں؟ تحقیقات کے مطالبات شدت اختیار کر گئے

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے کابل میں نشے کے عادی افراد کے علاج کے مرکز کو نشانہ بنانے کا الزام بے بنیاد اور گمراہ کن ہے۔

March 17, 2026

کابل میں حالیہ فضائی حملوں کے فوراً بعد افغان طالبان حکام کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا کہ ایک نشے کے عادی افراد کے علاج کے مرکز کو نشانہ بنایا گیاجس میں 400 سے زائد مریض جاں بحق ہوئے، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اس دعوے میں نمایاں تضادات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ ابتدائی رپورٹس، عینی شاہدین کے بیانات اور بعد ازاں سامنے آنے والی معلومات ایک پیچیدہ اور مشکوک تصویر پیش کر رہی ہیں، جس نے اس واقعے کو محض ایک حملہ نہیں بلکہ ممکنہ طور پر ایک منظم بیانیہ سازی کا کیس بنا دیا ہے۔

اعداد و شمار میں واضح تضاد


ایک جانب سینکڑوں ہلاکتوں اور زخمیوں کے دعوے کیے گئے، یہاں تک کہ چار سو سے زائد اموات اور ڈھائی سو زخمیوں کی تعداد بھی بتائی گئی، جبکہ دوسری جانب موقع پر موجود رپورٹرز اور مقامی ذرائع نے کہیں کم اعداد پیش کیے۔

بعض رپورٹس کے مطابق صرف دس سے پندرہ زخمی افراد ہسپتال میں موجود تھے، جبکہ تقریباً چالیس لاشوں کی بات کی گئی جنہیں بعد میں دوسرے مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔

لاشوں کی منتقلی اور سوالات کا طوفان


مبینہ طور پر درجنوں لاشوں کو ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال منتقل کیے جانے کی اطلاعات نے مزید شکوک پیدا کیے ہیں۔ اگر واقعی سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے تو ان لاشوں کو کہاں رکھا گیا؟ کن ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا؟ اور متاثرہ خاندان کہاں ہیں؟ اب تک ان سوالات کے واضح اور قابلِ تصدیق جوابات سامنے نہیں آ سکے، جس سے واقعے کی شفافیت پر سوال اٹھ رہے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ افغان حکومت نے کچھ عرصہ قبل ہی منشیات کے عادی افراد کو ایک جگہ جمع کرنے کی مہم شروع کی تھی اور سرکاری سطح پر اس بات کی تصدیق کی گئی تھی کہ سینکڑوں منشیات نوشوں کو جمع کر لیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ افغان حکومت کے طویل مدتی منصوبے کا حصہ ہو سکتا تھا کہ ایسے حالات میں ان افراد پر حملہ کر کے اس موقع سے فائدی اٹھایا جا سکے۔

موقع پر شواہد کی کمی


مقامی اور غیر رسمی ذرائع کے مطابق جب صحافیوں کو تاخیر کے بعد جائے وقوعہ تک رسائی دی گئی تو وہاں بڑے پیمانے پر تباہی یا خون کے آثار نہیں پائے گئے۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ عمارت کو معمولی نقصان پہنچا اور آگ کے اثرات ضرور دکھائی دیے، تاہم وہ کسی بڑے پیمانے کے میزائل حملے یا سینکڑوں ہلاکتوں کی نشاندہی نہیں کرتے۔ بعض عینی شاہدین نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ دھماکہ اصل مقام سے کچھ فاصلے پر ہوا تھا۔

دوسری جانب نشے کے عادی افراد کے جس مبینہ مرکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا، اس کی جغرافیائی نشاندہی میں بھی تضاد پایا گیا۔ بعض رپورٹس میں پلِ چرخی کا ذکر کیا گیا جبکہ دیگر بیانات میں مختلف مقامات کا حوالہ دیا گیا۔ مزید یہ کہ ایسے کسی بڑے “بحالی مرکز” کی واضح اور مستند لوکیشن بھی سامنے نہیں آ سکی، جس سے دعوے مزید مشکوک ہو گئے ہیں۔

عطا تارڑ کا بیان

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے کابل میں نشے کے عادی افراد کے علاج کے مرکز کو نشانہ بنانے کا الزام بے بنیاد اور گمراہ کن ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جاری کارروائیوں میں صرف ان عسکری اور دہشتگرد اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے جو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی، سہولت کاری، تربیت اور پناہ گاہوں کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سولہ مارچ کی رات کابل اور ننگرہار میں کیے گئے حملے مکمل درستگی، پیشہ ورانہ مہارت اور واضح انٹیلیجنس کی بنیاد پر کیے گئے، جن میں کسی ہسپتال، بحالی مرکز یا شہری تنصیب کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کارروائیوں کی ویڈیو شواہد بھی فوری طور پر جاری کیے گئے، جن میں واضح طور پر اسلحہ کے ذخائر اور تکنیکی تنصیبات کو نشانہ بنتے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ حملوں کے بعد ہونے والے ثانوی دھماکے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ہدف بارودی مواد کے ذخیرے تھے۔ عطاء اللہ تارڑ کے مطابق موجودہ الزامات ایک ایسے بیانیے کا حصہ ہیں جس میں جھوٹے دعوے، پرانی ویڈیوز اور گمراہ کن معلومات کے ذریعے حقیقت کو چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے کو درپیش اصل مسئلہ بدستور دہشتگردی ہے جو افغان سرزمین سے جنم لے رہی ہے، اور پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ہر ضروری اقدام جاری رکھے گا۔

دوسری بار دھماکے اور عسکری پہلو


حملوں کے بعد سامنے آنے والی ویڈیوز میں حملے کے بعد دوسری بار دھماکوں کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں، جو عام طور پر اسلحہ یا بارودی مواد کے ذخائر کی موجودگی کی نشاندہی کرتی ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ پہلو اس مؤقف کو تقویت دیتا ہے کہ اصل ہدف عسکری نوعیت کا تھا، نہ کہ کوئی شہری یا طبی مرکز۔ بعض مقامی ذرائع نے یہ بھی اشارہ دیا کہ قریبی عسکری تنصیب پر حملے کے بعد آگ پھیلنے سے قریبی ڈھانچے متاثر ہوئے۔

پاکستان کا مؤقف: صرف عسکری اہداف نشانہ بنے


پاکستانی حکام نے واضح طور پر کہا ہے کہ سولہ مارچ کی رات کیے گئے حملے مکمل درستگی کے ساتھ صرف دہشتگردی سے منسلک عسکری تنصیبات کے خلاف کیے گئے۔ بیان کے مطابق ان اہداف میں اسلحہ کے ذخائر، تکنیکی ڈھانچے اور وہ مراکز شامل تھے جہاں سے پاکستان کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔ حکام نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ کسی ہسپتال یا شہری تنصیب کو نشانہ بنایا گیا۔

دہشتگردی کا پس منظر اور علاقائی تناظر


سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان سرزمین سے سرگرم مختلف گروہوں کی کارروائیوں میں گزشتہ برسوں کے دوران ہزاروں پاکستانی شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ بعض نیٹ ورکس میں بڑی تعداد افغان شہریوں کی بھی شامل رہی۔ اس تناظر میں پاکستان کا مؤقف ہے کہ سرحد پار دہشتگردی کے خلاف کارروائی ایک دفاعی ضرورت ہے۔

پروپیگنڈا یا حقیقت؟ ’’فالس فلیگ‘‘ کے خدشات


متعدد مبصرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد سامنے آنے والے تضادات، شواہد کی کمی، اعداد و شمار میں فرق اور محدود میڈیا رسائی ایسے عناصر ہیں جو اس امکان کو تقویت دیتے ہیں کہ معاملہ محض ایک سادہ حملہ نہیں بلکہ ممکنہ طور پر ایک ’’فالس فلیگ‘‘ یا بیانیہ سازی کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر جب بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے دعوؤں کے باوجود نہ اجتماعی جنازے دکھائے گئے اور نہ ہی متاثرین کی واضح شناخت سامنے آئی۔

اطلاعاتی جنگ کا نیا محاذ


تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں اصل جنگ صرف میدان تک محدود نہیں رہی بلکہ اطلاعات اور بیانیے کا محاذ بھی اتنا ہی اہم ہو چکا ہے۔ ایسے میں آزادانہ تحقیقات، غیر جانبدار میڈیا کی رسائی اور شفاف شواہد کی فراہمی ہی حقیقت کو واضح کر سکتی ہے۔ فی الحال دستیاب معلومات اس واقعے کو مزید سوالات اور شکوک کے دائرے میں لے آتی ہیں، جہاں حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے ٹھوس اور قابلِ تصدیق شواہد ناگزیر ہیں۔

متعلقہ مضامین

اسرائیلی وزیرِ دفاع کا دعویٰ: ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی اور غلام رضا سلیمانی ہلاک

March 17, 2026

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم جاری؛ حریت کانفرنس نے مودی حکومت کے ‘معمول کے حالات’ کے دعوے کو عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش قرار دے دیا

March 17, 2026

جنگ کے سائے میں پاک ایران تجارتی مشن بحال؛ سفیرِ پاکستان مدثر علی ٹیپو نے زمینی سرحدوں اور گرین چینلز کے فعال ہونے کی تصدیق کر دی

March 17, 2026

میڈیا نیٹ ورکس اسلام فوبیا کو ہوا دے کر معاشرتی تقسیم بڑھا رہے ہیں؛ لوری واٹکنز نے صحافیوں کو جھوٹے پروپیگنڈے اور نفرت انگیز بیانیے کے خلاف سینہ سپر ہونے کی کال دے دی

March 17, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *