پاکستان کے مختلف سماجی اور مذہبی حلقوں نے سیاسی مقاصد کے لیے مذہبی مقدسات کو نشانہ بنانے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وجاہت سعید نامی شخص کی جانب سے قرآنِ مجید کی آیات کی مبینہ بے حرمتی اور غلط تلفظ کی سخت مذمت کی ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ آزادیِ اظہار کی آڑ میں معاشرے کی روحانی بنیادوں پر حملہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے حالیہ مواد کے بعد عوام میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ یہ محض سیاسی تنقید یا اختلافِ رائے نہیں بلکہ کھلی فکری گراوٹ اور اخلاقی دیوالیہ پن کی علامت ہے۔ سیاسی مفادات یا سستی شہرت کے حصول کے لیے دین کے مقدس الفاظ کو مسخ کرنا نہ صرف بدتہذیبی ہے بلکہ یہ صریحاً گستاخی کے زمرے میں آتا ہے۔
عوامی حلقوں کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں کہا گیا ہے کہ اختلافِ رائے سیاست کی حد تک تو قبول ہے، لیکن ایمان اور مذہبی علامات کو نشانہ بنانا مہذب معاشرے کے اصولوں کے منافی ہے۔ پوری قوم اس اشتعال انگیز حرکت پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کر رہی ہے کہ وجاہت سعید کے خلاف فوری اور مؤثر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی شخص ڈالروں کی بھوک یا سیاسی فائدے کے لیے قومی و ایمانی حدود کو پار کرنے کی جرات نہ کر سکے۔
دیکھیے: بھارتی سازشوں کا تسلسل: پاکستان کا میزائل پروگرام اور مخالف گروہوں کا نیا وار