بھارتی ٹی وی میزبان ارنب گوسوامی کے ساتھ اسرائیلی سفیر کے حالیہ انٹرویو نے خطے میں ایک نئی سفارتی بحث کو جنم دے دیا ہے، جسے تجزیہ کار ایک منظم بیانیہ سازی کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ انٹرویو میں پاکستان کے جوہری پروگرام اور اس کی علاقائی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے پاکستان کو ایک “غیر ذمہ دار ریاست” کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی، جس پر دفاعی و سفارتی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس انٹرویو کا مقصد صرف ایک بیان دینا نہیں بلکہ متعدد تزویراتی پیغامات دینا تھا، جن میں پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو کمزور ظاہر کرنا، پاکستان کو علاقائی تنازع میں گھسیٹنے کی کوشش کرنا، اور بھارت و اسرائیل کے مشترکہ بیانیے کو تقویت دینا شامل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے جوہری پروگرام کو متنازع بنانے کے لیے “روگ اسٹیٹ” جیسی اصطلاح کا استعمال بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے ذریعے عالمی سطح پر شکوک و شبہات پیدا کیے جا سکیں۔
مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ اسرائیل پاکستان کو روگ اسٹیٹ قرار دے رہا ہے کہ جو خود نہ صرف ایک ناجائز ریاست ہے بلکہ دنیا بھر میں بے گناہ لاکھوں انسانوں کی قاتل ہے۔ فلسطین میں محض دو سال میں اسی ہزار سے بے گناہ بچوں اور خواتین سمیت عام عوام کا خون بہایا ہے۔ بھارت خود بھی کشمیر سمیت دیگر مسلمانوں اور اقلیتوں کے ساتھ جو ظالمانہ سلوک روا رکھے ہوئے ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق سعودی عرب کے ساتھ اس کے تعلقات محض سفارتی نہیں بلکہ تاریخی، مذہبی اور دفاعی بنیادوں پر قائم ہیں، جو دہائیوں پر محیط تعاون پر مشتمل ہیں۔ اسی طرح پاکستان کے ایران کے ساتھ بھی دیرینہ برادرانہ تعلقات موجود ہیں اور پاکستان نے ہمیشہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے قیام کے لیے کردار ادا کیا ہے۔
حکومتی و دفاعی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کسی بھی ایسے بیانیے کا حصہ نہیں بنے گا جس کا مقصد مسلم دنیا میں تقسیم پیدا کرنا ہو۔ ان کے مطابق پاکستان کی پالیسی واضح ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون، انصاف اور علاقائی استحکام کے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے اپنے اتحادیوں کے ساتھ کھڑا رہے گا۔
جوہری پروگرام کے حوالے سے بھی پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ ایک ذمہ دار جوہری ریاست ہے، جس کے پاس مؤثر کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اور قابلِ اعتبار دفاعی صلاحیت موجود ہے۔ ماہرین کے مطابق کسی بھی جوہری ریاست کو دھمکیاں دینا نہ صرف غیر سنجیدہ بلکہ عالمی سلامتی کے اصولوں کے بھی خلاف ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان بڑھتا ہوا دفاعی تعاون اور مختلف شعبوں میں اشتراک کوئی خفیہ بات نہیں، تاہم پاکستان اس تمام صورتحال سے بخوبی آگاہ ہے اور اپنی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
مبصرین کے مطابق اس طرح کے بیانات خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں، تاہم پاکستان کا مؤقف اب بھی یہی ہے کہ وہ امن، استحکام اور توازن کے اصولوں پر کاربند رہے گا اور کسی بھی قسم کے دباؤ یا پروپیگنڈے سے متاثر نہیں ہوگا۔
دیکھیے: افغانستان میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر پاکستان کا فضائی حملہ؛ طالبان کے شہری ہلاکتوں کے دعوے مسترد