بلوچستان کے ضلع خضدار میں سکیورٹی اداروں نے ایک انتہائی اہم اور حساس کاروائی کرتے ہوئے مبینہ طور پر خودکش حملے کی تیاری میں ملوث 19 سالہ لڑکی کو گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق اس کاروائی کے ذریعے ایک بڑے جانی نقصان اور دہشت گردی کے منصوبے کو بروقت ناکام بنا دیا گیا ہے۔
خضدار کے علاقے گزگی میں خفیہ اطلاع پر کی گئی اس کاروائی کے حوالے سے سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار لڑکی جس کی شناخت لائبہ عرف فرزانہ کے نام سے ہوئی ہے، کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے ایک شدت پسند کمانڈر سے رابطے میں تھی اور اسے خودکش حملے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزمہ کو اس کے ایک قریبی رشتہ دار نے شدت پسندوں سے متعارف کروایا، جس کے بعد اسے نظریاتی طور پر گمراہ کر کے نومبر 2025 میں ایک تربیتی کیمپ کا دورہ بھی کرایا گیا۔
آج قوم کے سامنے لاپتہ افراد اور BLA کی حقیقت عیاں ہو گئی‼️
— Senator Sehar Kamran T.I. (@SeharKamran) March 18, 2026
وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی اہم پریس کانفرنس نے پاکستان کے خلاف ایک بڑی سازش کو بے نقاب کر دیا ہے۔
سیکیورٹی اداروں کی کامیاب کارروائی نے خودکش بمبار خاتون کو بروقت گرفتار کرکے ملک کو بڑی تباہی سے بچا لیا۔ گرفتار… pic.twitter.com/7A0DOPiH6G
حقائق کی وضاحت
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اس حوالے سے ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ یہ گرفتاری پاکستان کے خلاف ایک بڑی سازش کا پردہ چاک کرتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گرفتار خاتون کو دہشت گرد عناصر نے خودکش بمباری کے لیے استعمال کرنا تھا اور اس کا مقصد مزید لڑکیوں کو بھی اس راہ پر مائل کرنا تھا۔ وزیراعلیٰ نے اسے ‘ہائبرڈ وار’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دشمن عناصر بلوچ خواتین کا استحصال کر رہے ہیں اور جھوٹے بیانیے کے ذریعے نوجوان ذہنوں کو ریاست کے خلاف بھڑکا رہے ہیں۔
جبری گمشدگی کے دعوؤں کی حقیقت
دوسری جانب، اس کیس نے “پانک” (بی این ایم) جیسے گروہوں کے ان دعوؤں کی حقیقت بھی عیاں کر دی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ فرزانہ زہری کو یکم دسمبر 2025 کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔ سکیورٹی حکام کے مطابق فرزانہ زہری کی میڈیا کے سامنے پیشی اور اعترافی بیان نے ثابت کر دیا ہے کہ جسے “لاپتہ” قرار دیا جا رہا تھا، وہ دراصل دہشت گردی کے تربیتی مراحل میں تھی اور سیکیورٹی اداروں کی حراست میں آنے سے ایک بڑی تباہی ٹل گئی۔
𝙀𝙣𝙛𝙤𝙧𝙘𝙚𝙙 𝘿𝙞𝙨𝙖𝙥𝙥𝙚𝙖𝙧𝙖𝙣𝙘𝙚 𝙖𝙣𝙙 𝙈𝙚𝙙𝙞𝙖 𝙈𝙖𝙣𝙞𝙥𝙪𝙡𝙖𝙩𝙞𝙤𝙣 𝙞𝙣 𝙩𝙝𝙚 𝘾𝙖𝙨𝙚 𝙤𝙛 𝙁𝙖𝙧𝙯𝙖𝙣𝙖 𝙕𝙚𝙝𝙧𝙞
— Paank (@paank_bnm) March 18, 2026
March 18, 2026
Paank strongly condemns the enforced disappearance of Farzana Zehri from Khuzdar, Balochistan, on December 1, 2025. Her case… pic.twitter.com/o7kwI2c8fb
حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ ایف اے تک تعلیم یافتہ ہے اور اس کے خاندان کے پس منظر سمیت تمام پہلوؤں کی تحقیقات جاری ہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے اس نیٹ ورک سے جڑے دیگر افراد کی تلاش کے لیے چھاپوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے تاکہ دہشت گردی کی اس لہر کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔
دیکھیے: بھارتی سازشوں کا تسلسل: پاکستان کا میزائل پروگرام اور مخالف گروہوں کا نیا وار